حدیث نمبر 516

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی کہ ایک شخص نے حریت ابن عمر سے وتر کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ واجب ہیں تو حضرت عبداﷲ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے تو وہ شخص آپ پر بار بار یہ سوال کرنے لگا اور عبداﷲ یہی کہتے رہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ۱؎(مؤطا)

شرح

۱؎ سبحان اﷲ! کیسی احتیاط ہے کہ آپ نے وتر کے وجوب کا نہ اقرار کیا نہ انکار کیونکہ آپ نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے صحابہ کو وتر پڑھتے دیکھا مگر وجوب کی احادیث آپ تک نہ پہنچیں اس لیئے فرمایا میں اس سے بحث نہیں کرتا،پڑھوں گا۔ہمیشہ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل پر بحث نہ کرو عمل کرو۔شعر

عاشقانِ راچہ کار باتحقیق ہر کجا نام اوست قربانیم

خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ یہ تھی کہ ہر عمل کو صراحۃً نہ فرماتے کہ یہ فرض ہے یہ واجب ہے یہ سنت ہے علما نے علا مات سے فرضیت وغیرہ ثابت کی تاکہ امت کے لیئے گنجائش رہے اور علماء کا اختلاف رحمت بنے۔