أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَخِىۡ هٰرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّىۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِىَ رِدۡاً يُّصَدِّقُنِىۡٓ‌ ۖ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ۞

ترجمہ:

اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ روانی سے بولنے والے ہیں تو ان کو میری مدد کے لیے رسول بنا دے وہ میری تصدیق کریں گے ‘ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی اس دعا کے جواب میں فرمایا : ہم عنقریب آپ کے بازو کو آپ کے بھائی کے ساتھ مضبوط کریں گے اور ہم آپ دونوں کو غلبہ عطا کریں گے سو وہ آپ دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ‘ ایک اور جگہ ارشاد ہے :

قال قد اوتیت سولک یموسی۔ (طٰہٰ : ٦٣) اے موسیٰ ! تمہارے تمام سوالات پورے کر دئیے گئے ہیں۔

نیز فرمایا :

وھبنالہ من رحمتنا اخاہ ہرون نبیا۔ (مریم : ٣٥) اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما دی۔

اس لیے بعض اسلاف نے کہا ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی پر کیا ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بھائی کو نبی بنادیا اور ان کو حضرت موسیٰ کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :

وکان عنداللہ وجیھا (الاحزاب : ٩٤) اور وہ اللہ کے نزدیک عزت اور کرامت والے تھے 

اور اس آیت میں آپ کی تسلی کے لیے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت قوی معجزات عطا کیے ہیں ‘ سو ہمارے ان معجزات کی وجہ سے فرعون اور اس کے حواری آپ دونوں کو کوئی ضرف نہیں پہنچا سکیں گے ‘ سو آپ بےخوف وخطر تبلیغ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دیگر آیات میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق فرمایا ہے :

یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ط وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ ط واللہ یعصمک من الناس۔ (المائدہ : ٧٦) اے رسول مکرم ! جو کچھ بھی آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اپنے رب کے پیغام کو نہیں پہنچایا ‘ اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

الزین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولایخشون احدا الا اللہ ط وکفی باللہ حسیبا۔ (الاحزاب : ٩٣) (انبیاء سابقین) اللہ کے پیغامات کو پہنچاتے تھے اور وہ اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے ہماری نشانیوں کی وجہ سے آپ دونوں اور آپ کے مبتعین غالب رہیں گے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی۔ (المجادلۃ : ١٢) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 34