أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰى فٰرِغًا‌ ؕ اِنۡ كَادَتۡ لَـتُبۡدِىۡ بِهٖ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا تھا ‘ اگر ہم نے ان کے دل کو ڈھارس نہ دی ہوتی تو قریب تھا کہ وہ موسیٰ کا راز فاش کردیتیں ( ہم نے اس لیے ڈھارس دی) یا کہ وہ ( اللہ کے وعدہ پر) اعتماد کرنے والوں میں سے ہوجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا تھا اگر ہم نے ان کے دل کو ڈھارس نہ دی ہوتی تو قریب تھا کہ وہ موسیٰ کا راز فاش کر دیتیں ( ہم نے اس لیے ڈھارس دی) تاکہ وہ (اللہ کے وعدہ پر) اعتماد کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ اور موسیٰ کی ماں نے ان کی بہن سے کہا تم اس کے پیچھے پیچھے جاؤ تو وہ اس کو دور دُور سے دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس کا شعور نہ ہوا۔ اور ہم نے اس ( کے پہنچنے) سے پہلے موسیٰ پر دودھ حرام کر رکھا تھا سو وہ کہنے لگی آیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو تمہارے اس بچہ کی پرورش کرے اور وہ اس کے لیے خیر خواہ ہو۔ سو ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور وہ تقین کرلے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (القصص : ۱۳۔ ۱۰)

حضرت موسیٰ کی ماں کے دل خالی ہونے کے محامل 

فرمایا اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا تھا۔ الآیۃ (القصص : ١١۔ ۱۰)

دل خالی ہونے کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) حسن بصری نے کہا ان کا دل حضرت موسیٰ کی فکر اور ان کے غم کے سوا ہر فکر اور غم سے خالی ہوگیا تھا۔

(٢) علامہ زمخشری نے کہا ان کا دل عقل سے خالی ہوگیا تھا کیونکہ جب انہوں نے سنا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس پہنچ گئے ہیں تو ان پر اس قدر گھبراہٹ اور دہشت طاری ہوئی کہ ان کے ہوش و حواس اڑ گئے اور ان کی عقل ماؤف ہوگئی اور اس نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

(٣) امام محمد بن اسحاق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی طرف الہام کیا تھا کہ تم اس کو دریا میں ڈال دو اور تم خوف اور غم نہ کرنا ہم اس کو تمہاری طرف واپس لائیں گے ان کا دل اس الہام سے خالی ہوگیا اور شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ فرعون تمہارے بیٹے کو قتل کر دے گا ‘ اور یہ خود تمہارا کیا دہرا ہے ‘ اور جب ان کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت موسیٰ اب فرعون کے ہاتھوں میں ہیں تو ان کو اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا الہام بھول گیا ‘ اور اس عظیم صدمہ کی وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ یاد نہ رہا۔

(٤) ابو عبیدہ نے کہا ان کا دل غم اور فکر سے خالی تھا کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر اعتماد تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کی حفاظت کرے گا اور فرعون ان کو قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکے گا۔

(٥) ابن قنیبہ نے اس معنی پر اعتراض کیا ہے کہ اگر حضرت موسیٰ کی ماں کا دل ہر غم اور فکر سے خالی تھا اور وہ حضرت موسیٰ کے متعلق مطمئن تھیں تو پھر اللہ تعلی کے اس ارشاد کی کیا توجیہ ہوگی کہ اگر ہم نے ان کو دل کی ڈھارس نہ دی ہوتی تو قریب تھا کہ وہ موسیٰ کا راز ماش کردیتیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر کامل یقین تھا اس لیے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں کہ لوگوں کو یہ بتادیں کہ حضرت موسیٰ ان کے بیٹے ہیں جو فرعون کے گھر پہنچ گئے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس راز کے مخفی رکھنے پر ان کے دل مضبوط رکھا ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ ان کا دل حضرت موسیٰ کے متعلق فکر مند نہیں تھا اور وہ مطمئن تھیں اور اس پر مزید قرینہ یہ ہے کہ ان کو خبر پہنچ گئی تھی کہ فرعوں کی بیوی آسیہ نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے اور فرعون نے حضرت موسیٰ کوانہیں ہبہ کردیا ہے ‘ اور یہ اس لیے تھا کہ ان کو اللہ کے وعدہ پر کامل وثوق اور اعتماد تھا۔ تفسیر کبیر ج ٨ ص ٢٨٥۔ ١٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 10