أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡ اَ لۡقِ عَصَاكَ‌ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ‌ ؕ يٰمُوۡسٰٓى اَ قۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ‌ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہ (بھی آواز آئی) کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں ‘ پھر جب موسیٰ نے اس کو سانپ کی طرح لہراتے ہوئے دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور واپس مڑ کر نہ دیکھا ‘( ہم نے کہا) اے موسیٰ آگے بڑھیے اور خوف زدہ نہ ہوں ‘ بیشک آپ مامون رہنے والوں میں سے ہیں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو معجزے 

اور یہ ( بھی آواز آئی) کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں ‘ پھر جب موسیٰ نے اس کو سانپ کی طرح لہراتے ہوئے دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر چل دئیے ‘ اور واپس مڑ کر نہ دیکھا (ہم نے کہا) اے موسیٰ آگے بڑھیے اور خوف زدہ نہ ہوں ‘ بیشک آپ مامون رہنے والوں میں سے ہیں۔ (القصص : ١٣)

وہب بن منبہ نے کہا حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ آپ جہاں تھے ‘ وہیں لوٹ آئیں۔ حضرت موسیٰ واپس آئے اور اپنے جبہ کے پلو کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ لیا ‘ فرشتہ نے کہا یہ بتائیے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ کپڑا لپیٹنا آپ کو بچا سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا نہیں ! لیکن میں کمزور ہوں ‘ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ کھول کر اس کو سانپ کے منہ میں ڈال دیا تو وہ پھر دوبارہ عصا بن گیا۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٣١ ص ٢٥٢‘ دارالکتاب العربی ‘ ٠٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 31