أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ لِيَـقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ اِنِّىۡ لَـكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ایک مرد شہر کے آخری کنارے سے دوڑتا ہوا آیا ‘ اس نے کہا اے موسیٰ ! بیشک ( فرعون کے) سردار آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں سو آپ یہاں سے نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ایک مرد شہر کے آخری کنارے سے دوڑتا ہوا آیا ‘ اس نے کہا اے موسیٰ ! بیشک ( فرعون کے) سردار آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں ‘ سو آپ یہاں سے نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ سو موسیٰ اس شہر سے ڈرتے ہوئے نکلے اس انتظار میں کہ اب کیا ہوگا ؟ انہوں نے عرض کیا اے میرے رب ! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات دے دے۔ (القصص : ۲۱۔ ۲۰)

علامہ ثعلبی نے کہا کہ اس شخص کا نام حز قیل بن صبورا تھا ‘ اور وہ آلِ فرعون میں سے مومن تھا ‘ اور وہ فرعون کا عم زاد تھا۔ علامہ سھیلی نے کہا کا اس کا نام طالوت تھا ‘ قتادہ سے روایت ہے کہ وہ آلِ فرعون سے مومن تھا اور اس کا نام شمعون تھا ‘ اور ایک روایت ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا ‘ اس شخص کو یہ خبر پہنچ گئی تو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آکر بتادیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٥٤٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ ‘ الجامع لا حکام القرآن جز ٣١ ص ٥٣٢‘ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 20