أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحَرَّمۡنَا عَلَيۡهِ الۡمَرَاضِعَ مِنۡ قَبۡلُ فَقَالَتۡ هَلۡ اَدُلُّـكُمۡ عَلٰٓى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَـكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے اس (کے پہنچنے) سے پہلے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر رکھا تھا سو وہ کہنے لگی آیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو تمہارے اس بچہ کی پرورش کرے اور وہ اس کے لیے خیر خواہ ہو

دوسری عورتوں کو دودھ نہ پینے کی وجوہ 

اس کے بعد فرمایا اور ہم نے اس ( کے پہنچنے) سے پہلے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر رکھا تھا ‘ سو وہ کہنے لگی آیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو تمہارے اس بچہ کی پرورش کرے اور وہ اس کی خیر خواہ ہو۔ (القصص : ٢١ )

یعنی حضرت موسیٰ کی بہن کے پہنچنے سے پہلے یا حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹا نے سے پہلے ‘ ہم نے ان پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیا تھا ‘ اور ان پر ان کے دودھ کو حرام کرنے سے مراد شرعاً حرام کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان پر ان کا دودھ طبعاً ممتنع کردیا تھا ‘ اور باقی عورتوں کا دودھ پینے سے ان کو متنفر کردیا تھا اور وہ بھوک لگنے اور دودھ کی طلب کے باوجود ان عورتوں کا دودھ نہیں پی رہے تھے ‘ یعنی ان کو اپنے ماں کا دودھ پینے میں جو لذت آتی تھی ان عورتوں کا دودھ پینے میں وہ لذت نہیں آرہی تھی ‘ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تین ماہ تک اپنی ماں کا دودھ پی رہے تھے اور ان کی ماں کے جسم سے جو خوشبو آتی تھی وہ اس خوشبو سے مانوس ہوچکے تھے ‘ اور ان کے دودھ کے ذائقہ کے عادی ہوچکے تھے اور جب دوسری عورتوں کے جسم سے وہ خوشبو نہیں آئی اور نہ ان کے دودھ کا وہ ذائقہ تھا تو انہوں نے دودھ کی طلب اور بھوک کے باوجود دوسری عورتوں کا دودھ نہیں پیا ‘ یا اللہ تعالیٰ نے دوسری دودھ پلانے والی عورتوں کے دودھ میں ایسی کڑواہٹ پیدا کردی کہ انہوں نے بھوک کے باوجود ان کا دودھ نہیں پیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 12