أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ هٰذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ وَهٰذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ‌ۚ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِىۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِىۡ مِنۡ عَدُوِّهٖۙ فَوَكَزَهٗ مُوۡسٰى فَقَضٰى عَلَيۡهِ‌ ۖ قَالَ هٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ‌ ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ اس وقت شہر میں داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے تو وہاں انہوں نے دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا ‘ یہ (ایک) ان کی قوم میں سے تھا اور یہ ( دوسرا) ان کے مخالفین میں سے تھا ‘ سو جو ان کی قوم میں سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف مدد طلب کی جو ان کے مخالفوں میں سے تھا ‘ پس موسیٰ نے اس کو مکا مارا سو اس کو ہلاک کردیا ‘ موسیٰ نے کہا یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا ‘ بیشک شیطان دشمن ہے اور کھلم کھلا بہکانے والا ہے

حضرت موسیٰ کے شہر میں دخول کے وقت لوگوں کے غافل ہونے کے معنی 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور موسیٰ اس وقت شہر میں داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے ‘ اور وہاں انہوں نے دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دین اور ان کے آباء کے دین کا علم عطا فرمایا : تو انہوں نے جان لیا کہ فرعون اور اس کی قوم باطل پر ہیں۔ حضرت موسیٰ نے دین حق کا بیان کیا اور ان کے دین کی مذمت کی ‘ اور یہ چیز مشہور ہوگئی ‘ اور فرعونی ان کے مخالف ہوگئے ‘ اور بنی اسرائیل کی جماعت ان کا وعظ سنتی تھی اور ان کی اقتداء کرتی تھی ‘ اور پھر فرعون کا خطرہ یہاں تک بڑھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے شہر میں بہت محتاط ہو کر داخل ہوتے تھے ‘ ایک مرتبہ وہ ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے جب شہر والے غافل تھے ‘ اکثر مفسرین کے نزدیک وہ دوپہر کا وقت تھا اور اس وقت وہ لوگ قیلولہ (دوپہر کی نیند) کر رہے تھے۔ حضر ابن عباس سے ایک روایت ہے کہ وہ مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت تھا مگر پہلی روایت اولیٰ ہے۔ آیت کی تفسیر میں ابن زید نے یہ کہا ہے کہ اس غفلت سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ نیند میں غافل تھے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ اور ان کے ذکر سے غا فل ہوچکے تھے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کم سن تھے تو انہوں نے فرعون کے سر پر لاٹھی ماری تھی اور اس کی ڈاڑھی نوچ لی تھی ‘ تو فرعون نے ان کو قتل کرنیھ کا ارادہ کیا تھا پھر کچھ انگارے لائے گئے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انگارے اٹھا کر منہ میں ڈال لیے تھے جس سے ان کی زبان جل گئی تھی اسی وجہ سے ان کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی ‘ تب فرعون نے کہا تھا اس کو قتل نہ کرو لیکن اس کو اس گھر سے اور شہر سے نکال دو ۔ پس حضرت موسیٰ کو نکال دیا گیا اور وہ جوان ہونے تک اس شہر میں داخل نہیں ہوئے اور لوگ ان کا ذکر بھول بھال گئے۔ (جامع الیبان جز ٠٢ ص ٤٥۔ ٣٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

عصمت انبیاء پر اعتراض کا جواب 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوگئے تو وہ شہر میں جا رہے تھے ‘ انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ‘ ایک بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا آل فرعون سے تھا۔ اسرائیل نے فرعونی کے خلاف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے غضب میں آکر فرعونی کے ایک گھونسا مارا ‘ ان کا ارادہ اس کو قتل کرنے کا نہ تھا ‘ لیکن وہ شخص مرگیا تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا۔

حافظ ابن عساکر متوفی ١٧٥ ھ نے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرعونی سے کہا اس اسرائیلی کو چھوڑ دو ‘ اس فرعونی نے کہا اے موسیٰ ! تم کو معلوم نہیں یہ ہمارے فرعون کو بُرا کہتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے خبیث ! تم نے جھوٹ بولا ‘ بلکہ مالک صرف اللہ ہے اور فرعون اور اس کے کاموں پر لعنت ہو ‘ جب فرعونی نے یہ بات سنی تو وہ اسرائیلی کو چھوٖڑ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ایک گونسا مارا اور وہ قضائً مرگیا۔ (تاریخ دمشق ج ٤٦ ص ٣٢‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

جو لوگ عصمت انبیاء کے قائل نہیں ہیں وہ اس واقعہ کی وجہ سے عصمت انبیاء پر اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اعتراف کیا کہ شیطان کا عمل تھا اور انہوں نے اس پر استغفار کیا اور کہا ! اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے معاف فرما ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس فرعونی کو قتل کرنے کے ارادہ سے گھونسا نہیں مارا تھا ‘ بلکہ تادیباً گھونسا مارا تھا ‘ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انہوں نے جو یہ فرمایا کہ یہ شیطان کا عمل تھا یہ بحسب الظاہر فرمایا یعنی ظاہر میں یہ شیطانی عمل تھا اگرچہ حقیقت میں ایسا نہ تھا ‘ اور انہوں نے جو یہ دعا کی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے معاف فرما تو یہ ان کی تواضع اور انکسار ہے جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی : ربنا ظلمنا انفسنا۔ (الاعراف : ٣٢)

 القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 15