أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّىۡ وَلَكَ‌ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ ‌ۖ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ (بچہ) میر اور تمہاری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا ‘ شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور یہ لوگ (مستقبل کا) شعور نہیں رکھتے تھے

حضرت موسیٰ کے فرعون کے گھر پہنچنے میں مزید ارھاصات

سو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیا تاکہ انجام کار وہ ان کا دشمن اور باعث غم ہوجائے۔ الآیۃ (القصص : ٩۔ ٧)

امام ابو الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٦١٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس وغیرہ نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں فرعون کی صرف ایک بیٹی تھی اور اس کے علاوہ اس کی اور کوئی اولاد نہیں تھی ‘ اور فرعون کے نزدیکوہ سے سے زیادہ مکرم تھی اور فرعون کے پاس ہر روز اس کی تین فرمائشیں تھیں ‘ اس لڑکی کو برص کی شدید بیماری تھی ‘ فرعون نے اس کے علاج کے لیے تمام اطباء اور جادوگروں کو جمع کیا تھا ‘ انہوں نے اس معاملہ میں غور کر کے کہا اے بادشاہ ! تمہاری یہ بیٹی صرف دریا کی طرف سے تندرست ہوسکتی ہے اس دریا سے انسان کے مشابہ کوئی شخص ملے گا ‘ اس کے لعاب دہن کو جب اس کے برص پر لگایا جائے گا تو یہ تندرست ہوجائے گی ‘ اور یہ کام فلاں دن اور فلاں وقت میں طلوع آفتاب کے بعد ہوگا ‘ جب وہ دن آیا ( وہ پیر کا دن تھا) تو فرعون ایک مجلس میں دریائے نیل کے کنارے بیٹھ گیا ‘ اس کے ساتھ اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم بھی تھی ‘ اور فرعون کی بیٹی بھی اپنے سہیلیوں کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور ایک دوسرے پر پانی کے چھینٹے مار رہی تھیں کہ دریا کی موجیں ایک تابوت کو لے آئیں فرعون نے کہا یہ دریا میں کوئی چیز ہے جو درخت کے ساتھ اٹک گئی ہے اس کو میرے پاس لاؤ‘ لوگ ہر طرف سے کشتیاں لے کر دوڑے حتیٰ کہ اس تابوت کو فرعون کے سامنے لا کر رکھ دیا ‘ انہوں نے بڑی مشکل سے اس تابوت کو کھولا تو اس میں سے کم سن بچہ تھا ‘ اس کی آنکھوں کے درمیان نور تھا ‘ اور وہ اپنے انگوٹھے سے دودھ چوس رہا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے آسیہ اور فرعون کے دل میں اس کی محبت ڈال دی ‘ جب اس بچہ کو تابوت سے نکالا تو جہاں اس کا لعاب دہن گرا تھا فرعون کی بیٹی نے اس کو اٹھا کر اپنے برص کے داغوں پر لگایا تو وہ تندرست ہوگئی ‘ اس نے اس بچہ کو چوما اور اپنے سینہ سے لگایا ‘ فرعون کی قوم کے گمراہ لوگوں نے کہا اے بادشاہ ! ہمارا گمان ہے کہ یہی بنی اسرائیل کا وہ بچہ ہے جس سے ہم کو خطرہ تھا ‘ انہوں نے اس کو آپ کے ڈر سے دریا میں ڈال دیا ہے ‘ آپ اس کو قتل کردیں فرعون نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو آسیہ نے کہا یہ بچہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا آپ اس کو قتل نہ کریں ‘ ہوسکتا ہے کہ یہ ہم کو نفع دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور وہ بےاولاد تھی ‘ اس نے فرعون سے حضرت موسیٰ کو مانگ لیا اور فرعون نے اس کو دے دیا اور کہا مجھ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ (معالم المتنزیل ج ٢ ص ٤٢٥۔ ٣٢٥‘ مطبوی دارالتراث العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

امام ابوالقاسم علی ابن الحسن ابن عسا کر متوفی ١٧٥ ھ نے اس روایت کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ (تاریخ دمشق الکبیرج ٤٢ ص ٧١۔ ٦١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٢٤١ ھ)

ان کے علاوہ امام محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ ‘ علامہ نظام الدین الحسن بن محمد متوفی ٨٢٧ ھ ‘ علامہ محمد بن مصلح الدین القوجوی الحنفی المتوفی

١٥٩ ھ ‘ علامہ ابو السعود حنفی متوفی ٢٨٩ ھ ‘ علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ٧٣١١ ھ ‘ علامہ سلیمان الجمل متوفی ٤٠٢١ ھ ‘ علامہ احمد بن محمد الصاوی المالکی متوفی ١٤٢١ ھ اور علامہ محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ وغیر ہم نے بھی حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کا ذکر کیا ہے ‘ ان کی کتب کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں : (تفسیر کبیرج ٨ ص ٠٨٥‘ غرائب القرآن ورغائب الفرقان ج ٥ ص ٩٢٣۔ ٨٢٣‘ حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٦ ص ١٣٤‘ تفسیر ابوالسعود جا ٥ ص ٤١١۔ ٣١١‘ روح البیان ج ٦ ص ١٩٤‘ حاشیۃ الجمل عکہ الجلا لین ج ٣ ص ٥٣٣‘ حاشیہ الصادی علی الجلالین ج ٤ ص ٩١٥١‘ روض المعانی جز ٠٢‘ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اگر فرعون کہتا کہ یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو حضرت موسیٰ دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوجاتے۔ امام بغوی کی روایت میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی آسیہ کی طرح ہدایت دے دیتا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٤٩٦٠٢‘ معالم التنزیل رقم الحدیث : ٩٠٦١‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٨١٦٢ )

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 9