أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يٰۤـاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِىۡ‌ ۚ فَاَوۡقِدۡ لِىۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ فَاجۡعَلْ لِّىۡ صَرۡحًا لَّعَلِّىۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوۡسٰى ۙ وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور فرعون نے کہا اے درباریو ! میں اپنے علاوہ تمہارا اور کوئی معبود نہیں جانتا ‘ اے ہامان میرے لیے کچھ اینٹوں کو آگ سے پکاؤ پھر میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں ‘ اور بیشک میں اس کو جھوٹوں میں سے گمان کر رہا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور فرعون نے کہا اے درباریو ! میں اپنے علاوہ تمہارا اور کوئی معبود نہیں جانتا ‘ اے ھامان ! میرے لیے کچھ اینٹوں کو آگ سے پکاؤ‘ پھر میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں ‘ اور بیشک میں اس کو جھوٹوں میں سے گمان کر رہا ہوں۔ اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق زمین میں تکبر کیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ سو ہم نے فرعون کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ‘ پھر ہم نے ان سب کو دریا میں ڈال دیا سو دیکھیے ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ اور ہم نے ان کو (کافروں کا) امام بنادیا جو لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اور ہم نے اس دنیا میں (بھی) ان کے پیچھے (اپنی) لعنت لگا دی ہے اور قیامت کے دن وہ بد حال لوگوں میں سے ہونگے۔ (القصص : ۴۲۔ ۳۸)

فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اور اس کا عبرت ناک انجام 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے کفر اور اس کی سرکشی کا بیان فرمایا ہے کہ فرعون لعنہ اللہ نے اپنے لیے خدائی کا دعویٰ کیا تھا جیسا کہ فرمایا :

فاستخف قومہ فاطاعوہ (الزخرف : ٤٥) وہ اپنے قوم کو کم عقل سمجھتا تھا ( اس نے ان کو بہکایا) سو انہوں نے اس کی بات مان لی۔

اس نے اپنی قوم کو اپنی خدائی ماننے کی دعوت دی اور انہوں نے اپنی کم عقلی کی وجہ سے اس کی خدائی کو مان لیا ‘ اس لیے اس نے کہا اے درباریو ! میں اپنے علاوہ تمہارا اور کوئی معبود نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس قول کی خبر دی :

فحشرفنادی۔ فقال اناربکم الاعلی۔ فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔ (النزعت : ٥٢۔ ٣٢) پھر فرعون نے سب کو جمع کرکے اعلان کیا۔ پس کہا میں تمہار سب سے بڑا رب ہوں۔ سو اللہ نے اس کو دنیا اور آخرت کے عبرت ناک عذاب میں گرفتار کرلیا۔

یعنی جب فرعون نے سب لوگوں کو جمع کرکے ان میں اپنی الوہیت کا اعلان کیا تو سب نے اس کو اپنا معبود مان لیا اور اس کی اطاعت کی ‘ اس لے اللہ تعالیٰ نے اس سے انتقام لیا اور اس کو دنیا والوں کے لیے عبر کا نشان بنادیا ‘ فرعون کی دیدہ دلیری یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اس نے حضرت موسیٰ سے بھی کہا تھا کہ :

قال لئن اتخذت الھا غیری لا جعلنک من المسجونین۔ (الشعرائ : ٩٢) فرعون نے کہا ! اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو خدا قرار دیا تو میں تم کو قیدیوں میں ڈال دوں گا۔

پھر فرعون نے اپنے وزیر ھامان سے کہا : میرے لیے کچھ اینٹوں کو آگ سے پکاؤ پھر میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں ‘ اسی طرح ایک اور روایت میں فرمایا ہے :

وقال فرعون یھامن ابن لی صرحا لعلی ابلغ الا سباب۔ اسباب السموت فاطلع الی الہ موسیٰ و انی لاظنہ کاذبا ط وکذلک زین لفرعون سوء عملہ وصد عن السبیل ط وما کید فرعون الا فی تباب۔ (المومن : ٧٣۔ ٦٣) اور فرعون نے کہا : اے ھامان ! میرے لیے ایک بلند قلعہ بناؤ تاکہ میں ان راستوں تک پہنچ سکوں۔ جو آسمانوں کے راستے ہیں ‘ اور موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں اس کو جھوٹا گمان کرتا ہوں اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کے برے کام مزین کر دئیے گئے اور اس کو سیدھے راستے سے روک دیا گیا اور فرعون کی سازشیں ناکام ہوگئیں۔

اور یہ اس لیے کہ فرعون نے اس قدر بلند قلعہ بنایا تھا کہ اس سے بلند عمارت اس وقت تک نہیں بنائی گئی تھی ‘ اور اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس دعوے کا ردکرے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا ہے جو تمام جہانوں کا خدا ہے جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ میں موسیٰ کو جھوٹوں میں گمان کرتا ہوں ‘ اور اس نے کہا اے درباریو ! میں اپنے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں جانتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 38