أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِىۡ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ جب مدین کی جانب متوجہ ہوئے (تو) کہا عنقریب مجھے میرا رب سیدھا راستہ دکھا دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ جب مدین کی جانب متوجہ ہوئے (تو) کہا عنقریب مجھے میرا رب سیدھا راستہ دکھا دے گا۔ اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا وہاں لوگوں کا ایک گروہ ( اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور ان سے الگ دو خواتین کو دیکھا جو ( اپنے مویشیوں کو پانی پر جانے سے) روک رہی تھیں۔ موسیٰ نے پوچھا : تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک کہ ( سب) چرواہے ( پانی پلاکر) واپس نہ چلے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔ پس موسیٰ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا ‘ پھر سائے کی طرف آگئے اور عرض کیا اے میرے رب ! بیشک میں اس اچھائی کا محتاج ہوں جو تو نے میری طرف نازل کی ہے۔ (القصص : ۲۴۔ ٢٢ )

 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریوں کو پانی پلانا 

مدین ایک قبیلہ کا نا ہے ہے ‘ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے تھا ‘ جب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے تھے ‘ یوں اہل مدین اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان نسبی تعلق بھی تھا۔ یہ قبیلہ خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر آباد تھا ‘ یہ سارا علاقہ مدین کہلات تھا اس علاقہ کا مرکزی شہر بھی مدین تھا اور نہی علاقہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مولد اور مسکن تھا۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ مصر قرطبی نے لکھا ہے کہ مصر اور مدین کے درمیان آٹھ دن کی مسافت تھے ‘ ابن جبیر نے کہا ہے کہ مدین کے ملک میں فرعون کے علاوہ کسی اور کی حکومت تھی۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعونیوں نے خوف زدہ ہر کر اچانک مدین کی طرف چل پڑے تھے ‘ پہلے سے ان کو کوئی منصوبہ نہ تھا ‘ ان کے پاس سواری تھی نہ راستہ میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ وہ راستہ میں درختوں کے پتے کھا کر سفر کر رہے تھے ‘ فرعون نے ان کی تلاش میں اپنے کارندے دوڑادئیے تھے۔ اس نے کہا ان کو راستہ کی گھاٹیوں سے پکڑلاؤ‘ ان کو مدین کا راستہ معلوم نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو گھوڑے سوار کی صورت میں بھیجا اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا آپ میرے ساتھ چلیں یوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی کہ عنقریب مجھے میرا رب سیدھا راستہ دکھا دے گا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک کنوئیں پر پہنچے وہاں پر بہت لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے اور کنوئیں کی نچلی جانب دو لڑکیاں کھڑی تھیں جو اپنے بکریوں کو کنوئیں کی جانب سے روک رہیں تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا تم اس طرح الگ کیوں کھڑی ہو ؟ اور کیوں اپنے بکریوں کی روک رہی ہو ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں اور اتنے رش میں اپنے بکریوں کو پانی نہیں پلا سکتیں ‘ اور ہمارے والد بہت بوڑھے اور ضعیف ہیں اگر وہ طاقت ور ہوتے تو خود آکر جانوروں کو پانی پلادیتے ‘ اس لیے جب تک کہ سب چرواہے اپنی اپنی بکریوں کو پانی پلا کر نہ چلے جائیں ‘ وہ پانی نہیں پلا سکتیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان بکریوں کو کنوئیں سے پانی نکال کر پلایا پھر آ کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ (تاریخ دمشق الکبیرج ٤٦ ص ٦٢۔ ٥٢‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 22