وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱)

اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں (ف۸۴) اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہوکر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے (ف۸۵) اور بےشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے (ف۸۶)

(ف84)

اس کے دین کی خاطر ہجرت کی ۔

شانِ نُزول : قتادہ نے کہا کہ یہ آیت اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں نازِل ہوئی ، جن پر اہلِ مکّہ نے بہت ظلم کئے اور انہیں دین کی خاطر وطن چھوڑنا ہی پڑا ، بعض ان میں سے حبشہ چلے گئے پھر وہاں سے مدینۂ طیبہ آئے اور بعض مدینہ شریف ہی کو ہجرت کر گئے ۔ انہوں نے ۔

(ف85)

وہ مدینۂ طیّبہ ہے جس کو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے دار الہجرت بنایا ۔

(ف86)

یعنی کُفّار یا وہ لوگ جو ہجرت کرنے سے رہ گئے کہ اس کا اجر کتنا عظیم ہے ۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲)

وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۸۷) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۸۸)

(ف87)

وطن کی مفارقت اور کُفّار کی ایذا اور جان و مال کے خرچ کرنے پر ۔

(ف88)

اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے اس پر راضی ہیں اور خَلق سے انقطاع کر کے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳)

اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجےمگر مرد (ف۸۹) جن کی طرف ہم وحی کرتے تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں (ف۹۰)

(ف89)

شانِ نُزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کا اس طرح انکار کیا تھا کہ اللہ تعالٰی کی شان اس سے برتر ہے کہ وہ کسی بشر کو رسول بنائے ۔ انہیں بتایا گیا کہ سنّتِ الٰہی اسی طرح جاری ہے ہمیشہ اس نے انسانوں میں سے مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ۔

(ف90)

حدیث شریف میں ہے بیماریٔ جہل کی شفاء عُلَماء سے دریافت کرنا ہے لہذا عُلَماء سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے کہ سنّتِ الٰہیہ یونہی جاری رہی کہ اس نے مَردوں کو رسول بنا کر بھیجا ۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر (ف۹۱) اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری (ف۹۲) کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو (ف۹۳) ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں

(ف91)

مفسِّرین کا ایک قول یہ ہے کہ معنی یہ ہیں کہ روشن دلیلوں اور کتابوں کے جاننے والوں سے پوچھو اگر تم کو دلیل و کتاب کا علم نہ ہو ۔

مسئلہ : اس آیت سے تقلیدِ آئمہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔

(ف92)

یعنی قرآن شریف ۔

(ف93)

حکم ۔

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ(۴۵)

تو کیا جو لوگ برے مکر کرتے ہیں (ف۹۴) اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے (ف۹۵) یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو (ف۹۶)

(ف94)

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ اور ان کی ایذا کے درپے رہتے ہیں اور چُھپ چُھپ کر فساد انگیزی کی تدبیریں کیا کرتے ہیں جیسے کہ کُفّارِ مکّہ ۔

(ف95)

جیسے قارون کو دھنسا دیا تھا ۔

(ف96)

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر میں ہلاک کئے گئے باوجود یکہ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ(۴۶)

یا انہیں چلتے پھرتے (ف۹۷) پکڑ لے کہ وہ تھکا نہیں سکتے (ف۹۸)

(ف97)

سفر و حضر میں ہر ایک حال میں ۔

(ف98)

خدا کو عذاب کرنے سے ۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍؕ-فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۴۷)

یا انہیں نقصان دیتے دیتے گرفتار کرلے کہ بےشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے(ف۹۹)

(ف99)

کہ حلم کرتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸)

اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو (ف۱۰۰) چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں داہنے اور بائیں جھکتی ہیں (ف۱۰۱) اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں (ف۱۰۲)

(ف100)

سایہ دار ۔

(ف101)

صبح اور شام ۔

(ف102)

خوار و عاجز و مطیع و مُسخّر ۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۹)

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے (ف۱۰۳) اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے

(ف103)

سجدہ دو طرح پر ہے ، ایک سجدۂ طاعت و عبادت جیسا کہ مسلمانوں کا سجدہ اللہ کے لئے ، دوسرا سجدہ انقیاد و خضوع جیسا کہ سایہ وغیرہ کا سجدہ ۔ ہر چیز کا سجدہ اس کے حسبِ حیثیت ہے مسلمانوں اور فرشتوں کا سجدہ سجدۂ طاعت و عبادت ہے اور ان کے ماسوا کا سجدہ سجدۂ انقیاد و خضوع ۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩(۵۰)

اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو (ف۱۰۴

(ف104)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے مکلَّف ہیں اور جب ثابت کر دیا گیا کہ تمام آسمان و زمین کی کائنات اللہ کے حضور خاضع و متواضع اور عابد و مطیع ہے اور سب اس کے مملوک اور اسی کے تحتِ قدرت وتصرُّف ہیں تو شرک سے ممانعت فرمائی ۔