ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاْتِیَہُمُ اللہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَقُضِیَ الۡاَمْرُؕ وَ اِلَی اللہِ تُرْجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴿۲۱۰﴾

ترجمۂ کنزالایمان: کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگ تواسی چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ بادلوں کے سایوں میں ان کے پاس اللہ کا عذاب اور فرشتے آجائیں اور فیصلہ کردیا جائے اوراللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔ 

{ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ: کس چیز کا انتظار کرتے ہیں۔} فرمایاجارہا ہے کہ دینِ اسلام چھوڑنے اور شیطان کی فرمانبرداری کرنے والے کس چیز کا انتظار کررہے ہیں؟ کیا اس کا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور عذاب کے فرشتے اتر آئیں اور ان کا قصہ تمام کردیا جائے۔