حکایت نمبر:346 امامِ وقت کے دیدار کی تڑپ

حضرت سیِّدُنازُہَیْربن صالح بن احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا : ”ایک مرتبہ جب میں گھر آیا تو معلوم ہوا کہ میرے والدِ محترم حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑی شدت سے میرا انتظار کر رہے تھے، میں فوراً حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی: ” اے میرے والد ِ محترم ! کیا آپ میرا انتظار کر رہے ہیں؟ ”فرمایا :” ہاں! تمہاری غیر موجودگی میں ایک شخص مجھ سے ملنے آیا تھا، میری خواہش تھی کہ تم بھی اسے دیکھ لیتے لیکن اب تو جا چکا۔ چلو! میں تمہیں اس کے متعلق کچھ بتا دیتا ہوں۔ آج دو پہر کے وقت میں گھر میں تھا کہ دروازے پر کسی کے سلام کرنے کی آواز سنائی دی، میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک مسافر تھا جس نے پیوند لگا جُبَّہ پہنا ہو اتھا۔ جُبّے کے نیچے قمیص پہنی ہو ئی تھی ، نہ تواس کے پاس زادِ راہ رکھنے کا تھیلا تھا، نہ پانی پینے کے لئے کوئی برتن۔ سورج کی تیز دھوپ نے اس کا چہرہ جھُلسا دیا تھا۔ میں نے فوراً اسے اندر بلایا اور پوچھا: ” تم کہا ں سے اور کس حاجت کے تحت آئے ہو ۔” 

کہنے لگا: ” حضور! میں مشرقی وادیوں سے آیا ہوں ، میری دِلی خواہش تھی کہ اس علاقے میں حاضری دوں، اگر یہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مکان نہ ہوتا تو ہرگز یہاں نہ آتا۔ میں صرف آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔” میں نے کہا :” تم اتنی شدید گرمی میں تنِ تنہا بے سرو سامانی کے عالَم میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے صرف مجھ سے ملاقات کے لئے آئے ہو؟” کہا: ”جی حضور! مجھے آپ کی زیارت کا شوق یہاں تک لے آیا ہے ، اس کے علاوہ میرا یہاں آنے کا کوئی اور مقصد نہیں ۔”مسافر کی باتیں سن کر میں بہت حیران ہوا۔ اور دل میں کہا:” میرے پاس نہ تو درہم ہیں نہ ہی دینار کہ میں اس غریب مسافر کی مدد کرتا۔ ” اس وقت میرے پاس صرف چار روٹیاں تھیں میں نے اسے دیتے ہوئے کہا :” اے بندۂ خدا! میرے پاس درہم ودینار نہیں ورنہ ضرور تمہیں دیتا ،صرف یہ چار روٹیاں میں نے کھانے کے لئے رکھی تھیں، تم یہ قبول کرلو۔”مسافر نے کہا :” حضور! آپ کی دِید کا شربت پی لیا اب مجھے درہم و دینار کی فکر نہیں ، باقی رہاروٹیوں کا معاملہ تو اگر میرا ان روٹیوں کو لے لینا آپ کی خوشی کا باعث ہے تو تَبَرُّکاًلے لیتا ہوں۔”
میں نے کہا:” اگر تم یہ روٹیاں قبول کر لو گے تو مجھے دلی خوشی ہوگی۔” مسافر نے وہ روٹیاں لیں اور کہا :” حضور! مجھے امید ہے کہ آپ کی دی ہوئی روٹیاں مجھے اپنے شہر تک کافی ہیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے ۔” پھر میرے ہاتھوں کو چوم کر واپسی کی اجازت طلب کرنے لگا ۔ میں نے اسے روانہ کیا اور کہا: ”جاؤ! میں نے تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کیا ۔” پھر وہ رخصت ہوگیا میں باہر کھڑا اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا صالح بن احمد بن حَنْبَل فرماتے ہیں: ” میرے والد اکثر اس مسافر کا تذکرہ کیا کرتے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اس حکایت سے یہ درس ملا کہ بزرگانِ دین کی زیارت کرنے سے ا ن مقدس ہستیوں کی خصوصی توجہ ہوتی ہے اور جس کو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اپنی نظروں میں رکھیں وہ کبھی ذلیل ورسوا نہیں ہوتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہمیشہ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا ادب کرنے اور ان سے خوب خوب برکتیں لینے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))
؎ ہم کو تو ہر اک ولی سے پیار ہے اِنْ شَاءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے عَزَّوَجَلّ
مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم کا جو غلام ہے ہمارا وہ امام ہے