الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 529

روایت ہے حضرت حسن سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے لوگوں کو ابن ابی کعب پر جمع کیا ۱؎ کہ آپ انہیں بیس راتیں نماز پڑھاتے جن میں باقی آدھے کے علاوہ دعا قنو ت نہ پڑھتے ۲؎ جب آخری عشرہ ہوتا تو رہ جاتے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرتے ۳؎ لوگ کہتے ابی بھاگ گئے ۴؎ ابوداؤد اورحضرت انس ابن مالک سے قنوت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور ایک روایت میں کہ رکوع سے پہلے اور اس کے بعد۵؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ کیونکہ ابی ابن کعب ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا اور آپ سید القراء ہیں اسی لیئے تراویح کی جماعت کے لیئے آپ کا ہی انتخاب ہوا،آپ زمانۂ رسالت میں پورے قرآن کے حافظ تھے۔(مرقاۃ)

۲؎ اس حدیث کی بنا پر بعض بزرگ آئمہ فرماتے ہیں کہ وتر میں دعائے قنوت صرف آخری پندرہ رمضان میں پڑھی جائے،مگر امام اعظم کے ہاں سارا سال پڑھنی چاہیئے،یہاں قنوت سے مراد وتر کی دعائے قنوت نہیں بلکہ کفار پر کوئی خاص بددعا مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں جہاد بہت ہوتے تھے اس لیئے رمضان کے آخر نصف میں جس میں شب قدر بھی ہے مسلمان وتروں میں کفار کے لیئے خاص بددعا کرتے تھے۔اگر یہاں وتر کے قنوت مراد ہوں تو اس میں حسب ذیل خرابیاں لاز م ہوں گی:ایک یہ کہ یہ حدیث ان تمام احادیث کے خلاف ہوگی جن میں پورا سال قنوت پڑھنے کا ذکر ہے جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے۔امام محمد نے کتاب الاثار میں بروایت امام ابوحنیفہ عن حماد عن ابراھیم النخعی عن ابن مسعود روایت کی کہ آپ ہمیشہ وتر میں ہمیشہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے،نیز دارقطنی اور بیہقی نے سوید ابن غفلہ سے روایت کی کہ حضرات خلفائے راشدین آخر وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے،نیز ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ نے حضرت علی سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے،امام حسن کی روایت پہلے ہی گزر چکی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وتر پڑھنے کے لیئے دعائے قنوت سکھائی۔دوسرے یہ کہ اس حدیث سے دعائے قنوت صرف پانچ دن ثابت ہوگی کیونکہ حضرت ابی ابن کعب پندرھویں رمضان سے جماعت میں قنوت شروع کرتے تھے اور بیسویں کے بعد یہ جماعت چھوڑ دیتے تھے تو پانچ ہی دن قنوت رہی۔

۳؎ یا اس لیئے کہ تراویح چند روز جماعت سے پڑھنا پھر اکیلے پڑھنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا عمل شریف تھا،آپ اس سنت پر عمل کرتے تھے یا اس لیئے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں خلوت میں عبادات کرتے تھے۔بعض خلوتیں جلوت سے افضل ہوتی ہیں یا کسی اور عذر کی وجہ سے۔خیال رہے کہ حضرت ابی کا یہ پہلاعمل تھا،جب حضرت عمر نے آپ کو تراویح پڑھانے کا باقاعدہ حکم دے دیا تو پورا مہینہ پڑھاتے تھے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

۴؎ یہ لفظ حضرت ابی کی شان میں گستاخی کی نیت میں نہ تھا بلکہ افسوس کے لیئے تھا یعنی افسوس کہ ہمیں چھوڑ گئے ،رب تعالٰی حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:”اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوۡنِ”۔(لمعات)ورنہ امام کا احترام لازم ہے۔

۵؎ یعنی قنوت نازلہ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ پڑھی اوربعد میں چھوڑ دی،قنوت وتر مراد نہیں۔