حدیث نمبر 525

روایت ہے حضرت عاصم احول سے فرماتے ہیں میں نے انس ابن مالک سے نماز میں قنوت کے متعلق پوچھا کہ رکوع سے پہلے تھی یا بعد میں تو فرمایا پہلےتھی ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد تو صرف ایک ماہ قنوت پڑھی کہ آپ نے ایک لشکر بھیجا تھا جنہیں قراء کہا جاتا تھا ستر مرد تھے وہ شہیدکردیئے گئے ۲؎ تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ قنوت پڑھی ان پر بددعا کرتے ہوئے۔(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی وتر کی دعا قنوت ہمیشہ رکوع سے پہلے رہی کبھی رکوع کے بعد نہ پڑھی گئی،رکوع کے بعد والی قنوت یعنی قنوت نازلہ جو فجر میں تھی وہ صرف ایک ماہ رہی پھر منسوخ ہوگئی،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔

۲؎ یعنی قنوت نازلہ کی وجہ ان ستر قاریوں کی شہادت تھی جو نہایت بیدردی سے قتل کیئے گئے تھے،یہ حضرات فقراء صحابہ تھے جو دن کو لکڑیاں جمع کرکے فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ کے لیئے کھانا تیار کرتے تھے،رات عبادت میں گزارتے۔انہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نجدیوں کی تبلیغ کے لیئے بھیجا جب یہ بئرمعونہ پر پہنچے جو کہ مکہ معظمہ و عسفان کے درمیان ہے جہاں بنی ہزیل رہتے تھے تو عامر بن طفیل نے قبیلہ بنی سلیم،عصیب،رعل،ذکوان،قعرہ کے ساتھ ان لوگوں کو گھیرلیا اور سب کو شہید کردیا،صرف حضرت کعب ابن زید انصاری بچے جنہیں وہ مُردہ سمجھ کر سخت زخمی حالت میں چھوڑ گئے،پھر یہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے،یہ واقعہ قتل ۴ھ؁ میں ہوا،انہیں شہدا میں عامر ابن فہیرہ بھی تھے جنہیں فرشتوں نے دفن کیا،کسی کو ان کی نعش نہ ملی،اس واقعہ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ ہوا جس پر آپ نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی۔(مرقاۃ)اسی مواقعہ پر ایک واقعہ یہ بھی ہوا کہ قبیلہ عضل اور قعرہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم مسلمان ہوچکے ہیں،ہماری تعلیم کے لیئے کچھ علماء دیجئے تو آپ نے چھ صحابہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا جن کا امیر حضرت عاصم ابن ثابت کو بنایا،ان کفار نے مقام رجیع میں پہنچ کر حضرت عاصم کو قتل کردیا اور حضرت خبیب و زید ابن سدانہ کو قید کرکے مکہ معظمہ فروخت کردیا۔پہلے واقعہ کا نام بیئر معونہ ہے اور اس کا نام واقعہ رجیع۔یہ دونوں واقعات ایک ہی مہینہ میں ہوئے یعنی ماہ صفر ہجرت سے ۳۶ ماہ بعد،ان دونوں واقعات کی بنا پر قنوت نازلہ پڑھی گئی اسی وجہ سے بعض احادیث میں بیر معونہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور بعض میں رجیع کا مگر ان دونوں میں تعارض نہیں۔بعض شارحین کو دھوکا لگا اور احادیث میں تعارض مان بیٹھے۔(مرقاۃ)