باب القنوت

قنوت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ عربی میں قنوت کے معنی اطاعت،خاموشی،دعا،نماز کا قیام ہیں،یہاں اس سے خاص دعا مراد ہے۔قنوتین دو ہیں:وتر کے قنوت جو ہمیشہ وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے پڑھے جاتے ہیں اورقنوت نازلہ جوکسی خاص مصیبت میں،وبائی امراض اور کفار سے جہاد کے موقعہ پر فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد آہستہ پڑھے جاتے ہیں،اس باب میں دونوں قنوتوں کا ذکر آئے گا۔احناف کے ہاں وتر کی دعائے قنوت مقرر ہے “اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْتَعِیْنُكَ”الخ جیسا کہ طبرانی وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولًا نماز میں قبیلہ مضر پر بددعا کرتے تھے تو جبریل امین نے عرض کیا کہ رب نے آپ کو دعا کرنے کے لیئے پیدا کیا اور پھر یہ دعا سکھائی “اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْتَعِیْنُكَ”الخ۔یہ روایت جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب “عمل الیوم واللیلہ” میں بھی نقل کی ہے،نیز فتح القدیر نے ابوداؤد سے بھی روایت کی۔

حدیث نمبر 524

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا یادعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے ۱؎ بار ہا جب “سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ رَبَّنَالَكَ الْحَمْد”کہتے تو کہتے الٰہی ولید ابن ولید سلمہ ابن ہشام عیاش ابن ربیعہ کو نجات دے ۲؎ الٰہی سخت پامالی ڈال مضر پر اور اسے یوسف علیہ السلام کی قحط سالیوں کی طرح قحط سالی بنا۳؎ یہ بآواز بلند کہتے ۴؎ اور اپنی بعض نمازوں میں فرماتے الٰہی فلاں فلاں عربی قبیلوں پر لعنت کر ۵؎ حتی کہ رب نے یہ آیت نازل فرمائی “لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ”۶؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ قنوت نازلہ جو فجر کے دوسرے رکوع کے بعدکسی خاص مصیبت کے موقع پر پڑھی جاتی ہے احناف بھی اسے ضرورۃً جائز کہتے ہیں۔

۲؎ اس جملہ میں دعا کا ذکر ہے اگلے میں بددعا کا یہ چاروں صحابہ مکہ معظمہ میں کفار کے ہاتھوں قید تھے،ولید ابن ولید مخزومی قرشی تھے،خالد ابن ولید کے بھائی جنگ بدر میں مسلمانوں کی قید میں آگئے تو حضرت خالد اور ہشام نے چار ہزار درہم دے کر چھڑالیا جب سب چھوٹ کر مکہ معظمہ پہنچے تو اسلام لائے اور فرمایا کہ میں قید میں اسلام اس واسطے نہ لایا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں قید سے ڈر کر اسلام لایا اس بنا پر ان کے بھائیوں نے انہیں قید کردیا اور سخت ایذائیں دیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیئے دعا کرتے تھے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے یہ چھوٹ کر مدینہ منورہ آگئے،سلمہ ابن ہشام ابن مغیرہ ابوجہل کے حقیقی بھائی تھے جو قدیم الاسلام صحابی تھے اور اسلام کی وجہ سے مکہ معظمہ میں سخت مصیبت میں گرفتار تھے آخر کار بھاگ کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور عہدِ فاروقی میں جہاد میں شہید ہوئے،عیاش ابن ابی ربیعہ ابوجہل کے سوتیلے بھائی تھے،پرانے مومن تھے،پہلے حبشہ،پھر مدینہ پاک کی طرف ہجرت کی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ابو جہل ماں کی بیماری کا بہانہ بنا کر دھوکہ سے انہیں مکہ معظمہ لے گیا اور وہاں بھاری قیدوں میں گرفتار کردیا،آخر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے یہ بھاگ کر مدینہ پہنچے اور غزوہ تبوک میں شہید ہوئے۔(لمعات)

۳؎ یہ پکڑ کی تفسیر ہے،یعنی انہیں یوں پکڑ کر ان پر قحط سالی مسلّط کردے تاکہ تنگ آکر اسلام لے آئیں اور مشرکین مکہ اس بدعا کی وجہ سے سخت قحط سالی میں گرفتار ہوئے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنی نفسیاتی وجہ سے بددعا نہ دی،اپنے ظالموں کو معاف کیا ا ور دعائیں دیں،ہاں دینی دشمنوں کو بددعائیں دی ہیں،یہاں اسی ہی بددعا کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث نہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃً اللعالمین ہونے کے خلاف ہے اور نہ ان احادیث کے جن میں ارشاد ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بددعا نہ کرتے تھے۔

۴؎ قنوت نازلہ کا بلند آواز سے پڑھنا منسوخ ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے اب اگر پڑھنا پڑےتو آہستہ پڑھے۔

۵؎ یعنی آپ بعض قبیلوں رعل و ذکوان وغیرہم کا نام لے کر ان پر لعنت فرماتے تھے، بعض نمازوں سے مراد نماز فجر ہے جیسا کہ دوسری روایات میں ہے اور اگر فجر کے سوا اور نمازیں مراد ہیں تو یہ بھی منسوخ ہیں۔

۶؎ یعنی اس آیت کے نزول سے قنوت نازلہ منسوخ ہوگئی۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف سے حدیث منسوخ ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ قنوت نازلہ کا یا تو جہر منسوخ ہے یا ہمیشہ پڑھنا منسوخ،ورنہ ضرورت پر اب بھی آہستہ پڑھی جاسکتی ہے۔اس آیت کی تفسیر اور نسخ کی وجہ ہماری تفسیر حاشیۃ القرآن”نورالعرفان”میں ملاحظہ فرماؤ۔