أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَـقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُوۡتِىَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى‌ ؕ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ ‌ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰنِ تَظَاهَرَا وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انہوں نے کہا ان کو ایسے معجزے کیوں نہیں دئیے جیسے معجزے موسیٰ کو دئیے تھے ‘ کیا اس سے پہلے (کافروں نے) موسیٰ کے معجزوں کا کفر نہیں کیا تھ ؟ انہوں نے کہا یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور انہوں نے کہا بیشک ہم ( ان میں سے) ہر ایک کا کفر کرنے والے ہیں

اس کے بعد فرمایا : پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انہوں نے کہا ان کو ایسے معجزے کیوں نہ دئیے جیسے معجزے موسیٰ کو دئیے تھے۔ (القصص : ۴۸)

مجاہد نے کہا یہود نے قریش سے کہا کہ تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرو کہ وہ ایسے معجزات لے کر آئیں جیسے معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ قریش سے یہ کہیں کہ وہ یہود کے پاس جا کر یہ کہیں کیا تم نے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا انکار نہیں کیا تھا ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے ان کی مراد یہ تھی کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات ایک بار ہی مکمل نازل ہوگئی تھی اسی طرح آپ ہر بھی قرآن مجید ایک بار ہی مکمل کیوں نہیں نازل ہوا اور جس طرح ان کو عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دیا گیا تھا ‘ آپ کو بھی ایسے معجزے کیوں نہیں دئیے گئے۔ نیز ان کے لیے سمندر کو چیر کر راستہ بنادیا گیا ‘ ان کی امت پر بادل کا سایہ کیا گیا ‘ پتھر سے پانی نکالا گیا ‘ ان پر من وسلویٰ نازل کیا تو آپ کے لیے ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے جن معجزات کو طلب کیا تھا وہ معجزات اثبات ِ نبوت کے لیے لازم نہیں تھے ‘ کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ایک جیسے ہوں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ان پر ایک جیسی کتاب نازل ہو ‘ کیونکہ اصلاح اور ہدایت کے لیے کتاب کا نازل کرنا ضروری ہے خواہ وہ کتاب ایک بار ہی مکمل نازل کردی جائے یا تھوڑی تھوڑی حسب ضرورت نازل کی جائے ‘ اور معجزات کا ایک جیسا ہونا بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ ہر زمانہ کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں ‘ اس لیے اس زمانہ کے تقاضوں کے اعتبار سے معجزات دکھائیں جیسے معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیے تھے تو اے یہودیو ! یہ بتاؤ کہ کیا تمہارے آباء اجداد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا کفر نہیں کیا تھا ‘ اور ان کو جادوگر نہیں کہا تھا ؟

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

کیا یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جادوگر نہیں کہا تھا ‘ اور یہ کہ ہم ان میں سے ہر ایک کا کفر کرتے ہیں۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے انجیل اور قرآن دونوں کو جادو کہا۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے تورات اور قرآن دونوں کو جادو کہا ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے تورات اور انجیل دونوں کو جادوہ کہا۔ یہ اس صورت میں ہے جب اس لفظ کو سحران ( بغیر الف کے) پڑھا جائے اور اگر اس کو ساحران ( الف کے ساتھ) پڑھا جائے تو حضرت ابن عباس اور حسن بصری نے کہا یہ مشرکین عرب کا قول ہے اور ان کی مراد یہ تھی کہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دونوں جادوگر ہیں ‘ اور سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور ابن زید نے کہا یہ ابتداء رسالت میں تہود کا قول ہے اور ان کی مراد یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں جادوگر ہیں ‘ اور یہ تفسیر پہلی آیت سے اس طرح مربوط ہے کہ ہرچند کہ یہود نبوت کے معترف تھے لیکن انہوں نے دین میں تحریف کردی تھی اور کتاب میں بہت تغییر کردی تھی اور وہ عذاب کے مستحق ہوچکے تھے ‘ اس لیے ہم نے ان پر حجت قائم کرنے کے لیے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان کا کوئی عذر باقی نہ رہے ‘ اور قتادہ نے کہا یہ اس زمانہ کے یہودیوں کا قول ہے انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں جادو گر ہیں۔

اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو تورات لے کر آئے تھے ‘ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر تھا اور انجیل اور قرآن کا بھی ذکر تھا اور یہود نے ان کا انکار کیا اور کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جادو گر ہیں اور انجیل اور قرآن جادو ہے اور جب یہود نے ان چیزوں کا کفر کیا ان کا تورات میں ذکر ہے تو کیا انہوں نے تورات کا کفر نہیں کیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٠٧٢۔ ٩٦٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ ‘ جز ٣١ ص ١٦٢‘ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 48