أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ‌ؕاَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے یہ بتاؤ ! اگر اللہ تمہارے لیے قیامت تک کی مسلسل رات بنا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ کیا پس تم نہیں سنتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : یہ بتاؤ ! اگر اللہ تمہارے لیے قیامت تک کی مسلسل رات بنا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ‘ کیا پس تم نہیں دیکھتے !۔ آپ کہیے یہ بتاؤاگر اللہ تمہارے لیے قیامت تک کا مسلسل دن بنا دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے رات لے کر آئے جس میں تم آرام کرسکو ! کیا پس تم نہیں دیکھتے !۔ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس ( رات) میں آرام کرو اور اس ( دن) میں اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (القصص : ۷۳۔ ۷۱)

اسباب معیشت کی نعمتیں 

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ان کے اسباب معیشت بیان فرماتے ہیں اس نے دن بنایا تاکہ اس کی روشنی میں انسان اپنی روزی حاصل کرے اور رات بنائی تاکہ تھکاماندہ انسان اس میں آرام کرے اور دن میں سورج کی حرارت سے غلہ اور پھل پک جائیں اور رات کو چاند کی کرنوں سے ان میں ذائقہ پیدا ہو ‘ اور فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم غیر اللہ کی عبادت کرکے کتنی بڑی غلطی کر رہے ہو اور تم کو خود یہ اقرار ہے کہ اگر وہ رات کے بعد دن نہ لائے دن کے بعد رات نہ لائے تو اس کے سوا اور کوئی دن کے بعد رات ‘ یا رات کے بعد دن نہیں لاسکتا ‘ ان سے نعمتوں میں غور کرو تاکہ تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 71