أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان پر اس (کتاب) کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں ‘ بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ‘ ہم اس سے پہلے ہی مسلمین اور اطاعت شعار ہوچکے ہیں

تفسیر

قتادہ نے کہا حضرت عبداللہ بن سلام ‘ حضرت تمیم داری ‘ حضرت اجارودالعبدی ‘ حضرت سلمان فارسی (رض) اسلام لائے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت رفاعۃ القرظی سے روایت ہے کہ یہ آیت بھی دس افراد کے متعلق نازل ہوئی ہے اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

حضرت عروہ بن الزبیر نے کہا یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بارہ افراد بھیجے ‘ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بیٹھ گئے ‘ اس وقت ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی ان کے قریب تھے ‘ وہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ‘ جب وہ آپ کے پاس سے اٹھے تو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان کا پیچھا کیا ‘ اور کہا اللہ تعالیٰ تمہاری جماعت کو ناکام کرے اور تمہارے وفد کا بُرا حال کرے ہم نے تم سے زیادہ احمق اور جاہل سواروں کی جماعت نہیں دیکھی ‘ انہوں نے کہا تمہیں سلام ہو ‘ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔

ابوالعالیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ پر ایمان لاچکے تھے اور جب ان پر قرآن مجید پڑھا گیا تو انہوں نے کہا ہم اس کی تصدیق کرچکے ہیں۔

القصص : ۵۳ میں ہے : اور جب ان پر اس (کتاب) کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں ‘ بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ‘ ہم اس سے پہلے ہی مسلمین اور اطاعت شعار ہوچکے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کے نزول سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں اس کی بشارت پڑھ کر اس پر ایمان لاچکے تھے۔ یا ہم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں آپ کی بشارت پڑھ کر آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ یا اس کا معنی ہے ہم پہلے ہی موحد تھے ‘ یا ہمارا پہلے ہی ایمان تھا کہ عنقریب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہونگے اور آپ پر قرآن نازل ہوگا۔ اس آیت میں جو فرمایا ہے ہم پہلے ہی مسلمین تھے اس سے اسلام کا معرف اصطلاحی معنی مراد نہیں بلکہ لغوی معنی مراد ہے یعنی ہم پہلے ہی اطاعت گزار اور اطاعت شعار تھے ‘ اسلام کا معرف اصطلاحی معنی صرف دین ِ اسلام ہے اور صرف مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٣٦٢۔ ٢٦٢‘ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ ‘ جز ٣١ ص ٢٧٢۔ ١٧٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 53