أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡۤا اِنۡ نَّـتَّبِعِ الۡهُدٰى مَعَكَ نُـتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا ؕ اَوَلَمۡ نُمَكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰٓى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَىۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کرلیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں گے ‘ کیا ہم نے ان کو حرم میں نہیں آباد کیا جو امن والا ہے ‘ اس کی طرف ہمارے دئیے ہوئے ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں ‘ لیکن ان کے اکثر ( لوگ) نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کرلیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں گے ‘ کیا ہم نے ان کو حرم میں نہیں آباد کیا جو امن والا ہے ‘ اس کی طرف ہمارے دئیے ہوئے ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں ‘ لیکن ان کے اکثر ( لوگ) نہیں جانتے۔ اور ہم نے بہت سی ان بستیوں کو ہلاک کردیا جن کے رہنے والے اپنی خوشحالی پر اتراتے تھے سو یہ ان کے مکان ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم سکونت کی گئی ہے اور (انجام کار) ہم ہی وارث ہیں۔ اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظلم کرنے والے ہوں۔ اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے تو وہ دنیاوی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو اللہ کے پاس (اجر) ہے وہ اچھا ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ (القصص : ٠٦۔ ٧٥)

کفار کے اس شبہ کے تین جوابات کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو ہماری دنیاوی نعمتیں زائل ہوجائیں گی 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے ایک عذر کو ذائل کیا ہے ‘ امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کفار قریش نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کرلیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں گے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٩٠٢)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس شبہ کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سر زمین حرم کو امن والا بنادیا ہے اور اس میں بہ کثیرت رزق رکھا ہے ‘ حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اعراض کرنے والے ہو ‘ اور بتوں کی پرستش کر طرف رغبت کرنے والے ہو ‘ پس اگر تم ایمان لے آؤ تو تم پر اللہ تعالیٰ کا کرم زیادہ متوقع ہوگا اور تمہیں مکہ سے نکالے جانے کا خطرہ نہیں رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 57