أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقِيۡلَ ادۡعُوۡا شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ‌ۚ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان سے کہا جائے گا ‘ ان کو بلاؤ جن کو تم اللہ کا شریک کہتے تھے ‘ تو وہ ان کو پکاریں گے سو وہ ان کو کوئی جواب نہ دے سکیں گے اور وہ سب عذاب کو دیکھیں گے کاش وہ ہدایت پالیتے

اور کفار سے کہا جائے گا جن معبودوں کو تم نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا اور جن کی تم نے پرستش کی تھی ‘ اب ان کو مدد کے لیے پکاروتا کہ وہ تمہاری مدد کریں اور تم سے آخرت کے عذاب کو دور کریں ‘ وہ ان کو پکاریں گے ‘ تو وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے ‘ وہ سب عذاب کو دیکھیں گے کاش وہ (دنیا میں) ہدایت پالیتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ہدایت پالیتے تو وہ ہدایت ان کو آخرت میں فائدہ پہنچاتی اور ان سے عذاب کو دور کردیتی۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے تو دنیا میں بتوں کی عبادت نہ کرتے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب وہ آخرت میں عذاب کو دیکھیں گے تو یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ دنیا میں ہدایت یافتہ ہوتے۔ (القصص : ۶۴ )

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 64