أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۢ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا ‌ۚ فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا ؕ وَكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے بہت سی ان بستیوں کو ہلاک کردیا جن کے رہنے والے اپنی خوشحالی پر اتراتے تھے سو یہ ان کے مکان ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم سکونت کی گئی ہے اور (انجام کار) ہم ہی وارث ہیں

اس کے بعد فرمایا : اور ہم نے بہت سی ان بستیوں کو ہلاک کردیا جس کے رہنے والے اپنی خوشحالی پر اتراتے تھے۔ ( القصص : ۵۸)

اس آیت میں بھی کفار کےاسی شبہ کا دوسرا جواب دیا ہے انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ خوف ہے کہ ہم ایمان لائے تو ہم سے یہ نعمتیں زائل ہوجائیں گی ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ ایمان لانے سے نعمتیں زائل نہیں ہوتیں بلکہ ایمان نہ لانے سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں ‘ پچھلی امتون کے جو لوگ ہمارے دی ہوئی خوش حالی پر اتراتے تھے اور ایمان نہیں لاتے تھے ہم نے ان کی بستیاں ہلاک کردیں۔

پھر فرمایا : سو یہ ان کے مکان ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم سکونت کی گئی ہے ‘ ان میں سکونت نہ ہونے کی یہ تفصیل ہے :

(١) ان خالی مکانوں میں صرف مسافر یا راستہ سے گزرنے والے ایک یا دو دن رہتے تھے۔

(٢) ان مکانوں میں رہنے والوں کے گناہوں کی نحوست ان مکانوں پر سرایت کرگئی تھی اس سے ان مکانوں میں کوئی نہیں رہتا تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 58