أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے پہلے زمانہ کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لیے بٖٖصیرت افروز تھی اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے پہلے زمانہ کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی ‘ جو لوگوں کے لیے بٖٖصیرت افروز تھی ‘ اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور آپ (طور کی) مغربی جانب نہ تھے ‘ جب ہم نے موسیٰ کو پیغام پہنچانے کا حکم دیا تھا ‘ اور نہ آپ اس وقت ( ان کو) دیکھنے والوں میں سے تھے۔ لیکن ہم نے بہت سی قومیں پیدا کیں سو ان پر طویل زمانہ گزر گیا ‘ اور نہ آپ اہل مدین میں رہتے تھے کہ آپ ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرتے ‘ اور البتہ ہم ہی (آپ کو) رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں۔ اور (اس وقت پہاڑ) طور کی جانب تھے ‘ جب ہم نے موسیٰ کو نداء فرمائی تھی لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو غیب کی خبریں دیں) تاکہ آپ ان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (القصص : ۴۶۔ ۴۳)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل 

مذکورہ الصدر چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر دلیل قائم کی ہے اور قرآن مجید کا معجزہ اور کلام اللہ ہونا بیان فرمابا ہے ‘ کیونکہ ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت موسیٰ کی ولادت سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک تمام احوال بیان فرمائے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان کس طرح مکالمہ اور مناظرہ ہوا ‘ کوہ طور پر آپ پر کس طرح وحی نازل کی گئی ‘ یہ تمام چیزیں آپ نے بیان فرمائیں حالانکہ آپ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں موجود نہ تھے ‘ اور آپ امی تھے آپ نے یہ واقعات تورات میں نہیں پڑھے ‘ نہ آپ علماء اہل کتاب کی مجلس میں رہے ‘ پھر آپ نے یہ غیب کی خبریں کیسے بیان کر دین اس کی صرف یہی صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو ان خبروں پر مطلع فرمایا اور یہی آپ کے برحق رسول ہونے کی دلیل ہے۔

القصص : ۴۳ میں فرمایا ہے : ہم نے پہلے زمانہ کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی ‘ اس سے مراد تورات ہے جس میں فرائض ‘ حدود اور احکام ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں امام حاکم نیشاپوری نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب سے تورات کو نازل کیا ہے اس بستی کے جس کے لوگوں کو مسخ کرکے بندر بنادیا تھا اس نے روئے زمین پر اور کسی قوم یا قرن یا امت پر آسمانی عذاب نہیں بھیجا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٨٠٤‘ قدیم رقم الحدیث : ٤٣٥٣‘ جدید ‘ مسندالبز اررقم الحدیث : ٨٤٢٢‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٨٨‘ کنزالعمال ج ٢ ص ٣٣‘ الاحادیث الصحیحۃ للا لبانی ج ٥ ص ٦٢٣ )

قرونِ اولیٰ ( پہلے زمانہ کے لوگوں) سے مراد ہیں قوم نوح ‘ قوم عاد اور قوم ثمود ‘ ایک قول یہ ہے کہ فرعون کو غرق کرنے اور قارون کو زمین مے دھنسانے کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی۔

فرمایا : تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں یعنی بنو اسرائیل فرعون سے نجات پانے کی نعمت کو یاد کریں اور تورات کے احکام پر عمل کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 43