أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَـهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَـيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَـتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَـكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم مومنوں سے ہوجاتے (تو ہم کوئی رسول نہ بھیجتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم مومنوں سے ہوجاتے (تو ہم کوئی رسول نہ بھیجتے) ۔ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انہوں نے کہا ان کو ایسے معجزے کیوں نہیں دئیے ‘ جیسے معجزے موسیٰ کو دئیے تھے ! کیا اس سے پہلے (کافروں نے) موسیٰ کے معجزوں کا کفر نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور انہوں نے کہا بیشک ہم ( ان میں سے) ہر ایک کا کفر کرنے والے ہیں۔ (القصص ۴۸۔ ۴۷)

مشرکین کے شبہات کے جوابات 

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ آپ پر غیب کی باتوں کی وحی فرمانا ہماری رحمت ہے تاکہ آپ کے دعویٰ نبوت پر دلیل قائم ہو ‘ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو مکہ والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان کے لیے ایمان نہ لانے کا کوئی عذر باقی نہ رہے اور جب قیامت کے دن ان کو عذاب دیا جائے تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس تو کوئی رسول آیا ہی نہیں تھا ‘ ہم کیسے ایمان لاتے ‘ اور اس کی نظیر یہ آیتیں بھی ہیں :

رسلامبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل ط (النسائ : ۱۶۵) ( اور ہم نے ثواب کی) خوشخبری دینے والے اور (عذاب سے) ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے (ایمان نہ لانے کا) اللہ کے سامنے کوئی عذر نہ رہے۔

یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ماجاء نا من بشیر ولانذیر فقد جاء کم بشیرونذیر۔ (المائدہ : ۱۹) اے اہل کتاب بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو انقطاع رسل کی مدت کے بعد تمہارے لے (احکام شرعیہ) بیان کرتا ہے تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی (ثواب کی) بشارت دینے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا نہیں آیا ‘ لو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 47