أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلٰـكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ‌ۚ وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا فِىۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَـتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَاۙ وَلٰـكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

لیکن ہم نے بہت سی قومیں پیدا کیں سو ان پر طویل زمانہ گزر گیا ‘ اور نہ آپ اہل مدین میں رہتے تھے کہ آپ ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرتے ‘ اور البتہ ہم ہی (آپ کو) رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں

قرن کا معنی اور نبیوں اور رسولوں کی تعداد 

فرمایا : لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) بہت سے قرون پیدا کیے ‘ سو ان پر طویل زمانہ گزر گیا۔ (القصص : ٤ ٥)

حضرت عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا : یارسول اللہ قرن کتنی مدت ہے ؟ آپ نے فرمایا سو سال اور زرارہ بن اوفیٰ سے ایک سو بیس سال کی روایت ہے ‘ اور قتادہ سے ستر سال کی روایت ہے اور حسن بصری سے ساٹھ سال کی روایت ہے اور ابراہیم سے چالیس سال کی روایت ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٢٨٩٢‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٧١٤١ ھ)

ان باقی اقوال کی بہ نسبت قرن کی تعیین میں وہی مدت صحیح ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے۔

نیز اس آیت میں فرمایا : البتہ ہم ہی (آپ کو) رسول بن کر بھیجنے والے ہیں۔

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! انبیاء کی کتنی تعداد ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ‘ ان میں سے جم غفیر رسول ہیں ‘ تین سو پندرہ۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٤٤٩٦١‘ مطبوعہ مکتبہ نزارمصطفی مکہ مکرمہ ‘ ٧١٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 45