أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَـتُهَا‌ ۚ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى‌ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے تو وہ دنیاوی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو اللہ کے پاس (اجر) ہے وہ اچھا ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

اس کے بعد فرمایا :اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے تو وہ دنیاوی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو اللہ کے پاس (اجر) ہے وہ اچھا ہے ( القصص : ۶۰)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس شبہکا تیسرا جواب دیا ہے کہ ہم ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ہمارے پاس جو دنیا کی نعمتیں ہیں کہیں وہ ہم سے چھن نہ جائیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم دنیا کی جن نعمتوں کے زوال کے خوف سے ایمان نہیں لا رہے وہ دینا کی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس آخرت میں جو اجر ہے وہ دائمی ہے اور وہی اچھا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 60