أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا وَلٰـكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰٮهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور نہ آپ ( پہاڑ) طور کی جانب تھے جب ہم نے نداء فرمائی تھی ‘ لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو غیب کی خبریں دیں) تاکہ آپ ان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی فضیلت 

اس کے بعد فرمایا اور نہ آپ ( اس وقت پہاڑ) طور کی جانب تھے جب ہم نے نداء فرمائی تھی۔ (القصص : ۴۶)

یعنی جس طرح آپ اس وقت پہاڑ طور کی مغربی جانب نہ تھے جب ہم نے حضرت موسیٰ کو رسول بن کر فرعون کی طرف بھیجا تھا ‘ اسی طرح آپ اس وقت بھی پہاڑ طور کی جانب نہ تھے ‘ جب حضرت موسیٰ ستر منتخب شدہ افراد کے ساتھ پہاڑ طور پر آئے تھے ‘ اور جب ان ستر افراد کو زلزلہ نے پکڑ لیا تو حضرت موسیٰ نے دعا کی : اے میرے رب اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیتا ‘ کیا تو ان بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے ہم سے کو ہلاک کر دے گا ! یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک آزمائش ہے تو اس آزمائش کی وجہ سے جس کو چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے اور جس کو چاہے ہدایت پر برقرار رکھے سو تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر معف فرمانے والا ہے۔ (الاعراف : ٥٥١ )

اس آیت کی دوسری تفسیر میں یہ روایات ہیں : امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ح فرماتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کیامت کو اس وقت نداء کی جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ‘ اے امت محمد ! میں نے تمہارے دعا کرنے سے پہلے تمہاری دعاؤں کو قبول کرلیا اور تمہارے سوال کرنے سے پہلے تم کو عطا کردیا اور تمہارے مغفرت طلب کرنے سے پہلے تم کو معاف فرما دیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ نداء فرمائی تھی جب حضرت موسیٰ ستر افراد کو لیکر پہاڑ طور پر گئے تھے۔

وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت کا ذکر کیا تو حضرت موسیٰ نے کہا ! اے میرے رب ! مجھے ان کو دکھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ‘ اگر تم چاہو تو میں تم کو ان کی آواز سنادوں ‘ حضرت موسیٰ نے کہا کیوں نہیں ‘ اے میرے رب ! تو اللہ سبحانہ نے پکارا اے امت محمد ! تو انہوں نے اپنے آباء کی پشتوں سے جواب دیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی آواز سنا دی پھر فرمایا میں تمہارے دعا کرنے سے پہلے تمہاری دعاؤں کو قبول فرما لیا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس کی روایت میں گزر چکا ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص ٣٠٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

امام ابن جریر متوفی ٠١٣ ھ ‘ امام ابن ابی حاتم متوفی ٧٢٣ ھ ‘ امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٥٠٤ ھ ‘ امام الحسین بن مسعود متوفی ٦١٥ ھ ‘ حافظ ابن کثیر متوفی ٤٧٧ ھ ‘ وغیرہم نے بھی اس روایت کو اپنی اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے ان کے حوالہ جاب حسب ذیل ہیں : (جامع البیان جز ٠٢ ص ١٠١۔ ٠٠١‘ تفسیر امم ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٣٨٩٢‘ المستدرک ج ٢ ص ٨٠٤‘ معالم التنزیل ج ٣ ص ٧٣٥‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٩٢٤ ھ)

اور فرمایا : لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے وقت موجود نہیں تھے ‘ اور نہ وہ واقعات کسی کتاب سے آپ پر پڑھے گئے تھے ‘ لیکن ہم نے آپ کو مبعوث فرمایا اور آپ کی طرف ان واقعات کی وحی فرمائی ہے ہماری رحمت ہے۔ تاکہ آپ کو جن لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے آپ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں ‘ اور ان کو سامنے آپ کی نبوت پر دلیل قائم ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 46