أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن وہ ان کو ندا کرکے فرمائے گا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا ؟

اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جب تمہارے پاس انبیاء بھیجے گئے تھے اور انہوں نے اللہ کے پیغام پہنچائے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ‘ اس وقت ان سے خبریں پوشیدہ ہوجائیں گی ‘ مجاہد نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس وقت کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے پاس رسول بھیج کر ان پر اپنی حجت تمام کردی تھی اور وہ ایک دوسرے سے کسی عذر کو پوچھ بھی نہیں سکیں گے ‘ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ان پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ نہ خود ان کے دماغوں میں کوئی عذر آئے گا نہ وہ کسی سے عذر پوچھ سکیں گے۔ (القصص : ٦٦)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 65