أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن وہ ان کو ندا کر کے فرمائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم اپنے گمان میں میرا شریک قرار دیتے تھے ؟

تفسیر:

اللہ کا ارشاد ہے : اور جس دن وہ ان کو ندا کر کے فرمائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم اپنے گمان میں میرا شریک قرار دیتے تھے ؟۔ اور ہم ہر ُ امت میں سے ایک گواہ کو الگ کرلیں گے ‘ پھر ہم فرمائیں گے : اپنی دلیل لاؤ‘ تب وہ جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے ‘ اور جو کچھ وہ افتراء کرتے تھے وہ ان سے گم ہوجائے گا۔ (القصص : ۷۵۔ ۷۴ )

ایک آیت کو دو بار ذکر فرمانے کی توجیہہ 

اس آیت کی اس رکوع میں دوسری بار ذکر فرمایا : القصص : ۶۲میں بھی اس کا ذکر تھا اور اب القصص : ۷۵ میں بھی اس کا ذکر ہے کیونکہ قیامت کے دن کے احوال مختلف ہوں گے ‘ جب پہلی بار ان کو ندا کرکے فرمائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم اپنے گمان میں میرا شریک قرار دیتے تھے تو وہ اپنے بتوں کو پکاریں گے ‘ وہ ان کو کوئی جواب نہیں دے سکیں گے ‘ وہ اس پر حیران ہونگے ‘ پھر ان کو دوسری بار ان کی مزید زجروتوبیخ کرنے کے لیے ان کو پکارا جائے گا۔

یہ ندا اللہ تعالیٰ نہیں فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار سے کلام نہیں کرے گا قرآن مجید میں ہے : ولایکلمہم اللہ یوم القیمۃ۔ (البقرۃ : ۱۷۴) اور اللہ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کرے گا۔

لیکن اللہ تعالیٰ کسی فرشتہ کو حکم دے گا وہ ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرے گا ‘ اور مقام حساب میں ان کے خلاف حجت قائم کرے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ الگ کرلیں گے۔ (القصص : ۷۵)

مجاہد نے کہا شہید (گواہ) سے مراد نبی ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے : فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علی ھولاء شھیدا۔ (النسائ : ۴۱) سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائے گے ‘ اور آپ کو ان سب پر گواہ بناکر لائے گے۔

اور ہر امت میں اس کا رسول شہید ( گواہ) ہوتا ہے جو اس کے متعلق گواہی دیتا ہے ‘ اور شہید کا معنی ہے حاضر ‘ یعنی ہم ہرامت کے سامنے اس کے رسول کو حاضر کریں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب تم اپنا عذر پیش کرو کہ ایمان کیوں نہیں لائے ‘ اس وقت ان کو یقین ہوجائے گا کہ انبیاء (علیہم السلام) ‘ نے جو پیغام پہنچایا تھا وہ پر حق تھا اور وہ جو اللہ تعالیٰ پر افرراء باندھتے تھے کہ اس کے ساتھ اور بھی معبود ہیں وہ سب ان کے دماغوں سے نکل جائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 74