أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن وہ ان کو ندا کرکے فرمائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم اپنے گمان میں میرا شریک قرار دیتے تھے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن وہ ان کو ندا کرکے فرمائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم اپنے گمان میں میرا شریک قرار دیتے تھے۔ وہ لوگ کہیں گے جن کے متعلق عذاب کی وعید ثابت ہوچکی ہے ‘ اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ‘ ہم نے ان کو اس طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے ‘ ہم ان سے بیزار ہو کر تیری طرف رجوع کرتے ہیں ‘ یہ صرف ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ اور ان سے کہا جائے گا ان کو بلاؤ جن کو تم اللہ کا شریک کہتے تھے تو وہ ان کو پکاریں گے سو وہ ان کو کوئی جواب نہ دے سکیں گے اور وہ سب عذاب کو دیکھیں گے کاش وہ ہدایت پالیتے۔ اور جس دن وہ ان کو ندا کرکے فرمائے گا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا ؟۔ تو اس دن ان سے خبریں پوشیدہ ہوجائیں گی ‘ پس وہ ایک دوسرے سے سوال تک نہ کرسکیں گے۔ سو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے پس عنقریب وہ کامیابوں میں سے ہوجائے گا۔ (القصص : ۶۷۔ ۶۲ )

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا مشرکین سے بطور زجرو توبیخ کلام فرمانا 

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو نداء کرکے یہ فرمائے گا جن کو تم اپنے زعم میں میرا شریک قرار دیتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے کہ وہ آخرت میں تمہاری مدد کریں گے اور تمہاری شفاعت کریں گے ‘ وہ اب کہاں ہیں ؟ (القصص : ۶۲ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 62