أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى حَتّٰى يَبۡعَثَ فِىۡۤ اُمِّهَا رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا‌ ۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِى الۡقُرٰٓى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظلم کرنے والے ہوں

پھر جب ان مکانوں میں رہنے والے ہلاک ہوگئے تو پھر ان مکانوں کے ہم یہ وارث تھے۔

اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کفار اپنے خوشحالی پر اتراتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو کفار کفر اور عناد میں مستغرق تھے ان کو کیوں نہیں ہلاک کیا ؟ اس کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا :

اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج دے ‘ جو ان پر ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہو۔ (القصص : ۵۹)

اس لیے اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کے کافروں پر ان کے کفر اور عناد کے باوجود ان پر عذاب نہیں بھیجا ‘ حتیٰ کہ مکہ میں سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور آپ نے ان کے سامنے اللہ کے کلام کو پڑھا اور اللہ کا پیغام سنایا۔

پھر فرمایا : اور ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے ہیں جن کے رہنے والے ظلم کرنے والے ہوں۔

ہر چند کہ مکہ کے قریش بھی کفر شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ عنقریب ایمان لے آئیں گیا اور اگر یہ خود ایمان نہ لائے تو ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہونگ جو ایمان لے آئیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 59