أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ يُّتۡرَكُوۡۤا اَنۡ يَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَـنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ان کو یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی آزمائشیں

فرمایا : کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ان کو یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا (العنکبوت : ٢)

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی النیشاپوری المتوفی ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے ‘ ابن جریج اور ابن عمیر نے کہا یہ آیت حضرت عمار بن یاسر کے متعلق ہوئی ہے ‘ جب ان کو اللہ کے ماننے کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر اور ان کے والد حضرت یاسر (رض) ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا تھا اور یہ سابقین اولین میں سے تھے ‘ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے جب ان کو عذاب دیا جارہا تھا آپ نے فرمایا : اے آل یاسر صبر کرو تم سے جنت کا وعدہ ہے۔ (الاصابہ رقم الحدیث : ٥٧٢٠)

امام شعبی نے کہا یہ دونوں آیتیں ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئیں ہیں جو مکہ میں تھے اور اسلام لا چکے تھے ‘ مدینہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے ان کو لکھا جب تک تم ہجرت نہیں کرو گے اللہ تعالیٰ تمہارے اسلام کے اقرار کو قبول نہیں فرمائے گا ‘ وہ مدینہ کا قصد کر کے روانہ ہوئے ‘ مشرکین نے ان کا تعاقب کر کے ان کو پھر مکہ واپس لوٹا دیا ‘ تب ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے ان کی طرف لکھا کہ تمہارے متعلق اس طرح آیت نازل ہوئی ہے ‘ تب مکہ کے مسلمانوں نے کہا اب ہم ہرحال میں مدینہ جائیں گے ‘ خواہ ہم کو مشرکین سے قتال کرنا پڑے۔ پھر وہ مکہ سے روانہ ہوئے ‘ مشرکین نے حسب سابق ان کا تعاقب کیا ‘ تو مسلمانوں نے ان سے قتال کیا ‘ بعض ان میں سے شہید ہوگئے اور بعض نجات پا کر مدینہ پہنچ گئے تو اللہ سبحانہ نے ان کے متعلق یہ دو آیتیں نازل فرمائیں۔

اور مقاتل نے کہا کہ یہ آیت حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے آزاد شدہ غلام مہجع کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ وہ پہلے شخص تھے جو جنگ بدر کے دن مسلمانوں کی طرف سے شہید ہوئے تھے۔ عامر بن الحضرمی نے ان کو تیر مارا تھا جس سے وہ شہید ہوئے تھے ‘ اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مہجع سیدالشہد اء ہیں اور اس امت میں وہ پہلے شخص ہیں جن کو جنت کے دروازہ سے پکارا جائے گا۔ ان کے شہید ہونے پر ان کے ماں باپ اور ان کی بیوی بےقراری سے گریہ کررہے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی اور یہ بتایا کہ اللہ کو واحد ماننے کی وجہ سے ان کو جو مصائب اور مشقتیں پہنچیں ان پر صبر کریں ‘ اور یہ کہ دین اسلام میں بہر حال امتحانوں اور آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔ (الکشف و البیان ج ٧ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ ‘ الوسیط ج ٣ ص ٤١٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اس کے بعد فرمایا : اور بیشک ہم نے اس سے پہلے لوگوں کو آزمایا تھا (العنکبوت : ٣)

سابقہ امتوں کی آزمائشیں 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس الرازی المعروف با بن ابی حاتم المتوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے :

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تک تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آئیں جیسی تم سے پہلے لوگوں پر آئیں تھیں ‘ ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ (اس قدر) جھنجوڑ دیئے گئے کہ اس وقت کے رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سنو بیشک اللہ کی مدد عنقریب آئے گی !۔البقرہ ۲۱۴

رسول اللہ صلی علیہ وسم کے اصحاب کہتے تھے کہ میں پچھلی امتوں کے حالات بتائے گئے ‘ انہیں اللہ کی راہ میں ایذاء پہنچائی گئی اور انہوں نے مصائب اور تکالیف میں صبر کیا اور راحت میں اللہ کا شکر ادا کیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ عنقریب اللہ ان کو کشادگی اور تنگی میں مبتلا کرے گا اور خیر اور شر میں اور امن اور خوف میں اور اطمینان اور بےقراری میں آزمائے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٢٠٣١۔ ٣٠٣٠‘ رقم الحدیث : ٧١٢٩ ١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ البار ‘ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

حضرت خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سائے میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ‘ ہم نے آپ سے عرض کیا : آیا آپ ہمارے لئے مدد طلب نہیں کرتے ! آیا آپ ہمارے لئے دعا نہیں کرتے ! آپ نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص کو زمین میں دباد یا جاتا ‘ پھر اس کے جسم پر آری رکھ کر اس کے جسم کو دو حصوں میں کاٹ دیا جاتا ‘ اور یہ ظلم اسے اس کے دین سے منحرف نہیں کرتا تھا ‘ اور اس کے جسم میں لو ہے کی کنگھی چلا کر اس کے گوشت ‘ اس کی رگوں اور اس کے پٹھوں کو چھیل دیا جاتا اور یہ ظلم بھی اسے اس کے دین سے متحرف نہیں کرتا تھا ‘ اور اللہ اپنے اس دین کو مکمل فرمائے گا حتیٰ ک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک کا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہوگا البتہ اس کو اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیئے کا ڈر ہوگا لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦١٢‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٦٤٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٤‘ مسند احمد الحدیث : ٢١٣٧١)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بخار تھا میں آپ کے پاس گیا میں نے آپ پر ہاتھ رکھا ‘ تو میں نے اپنے ہاتھوں میں اس کی تپش محسوس کی ‘ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کو کتنا تیز بخار ہے ! آپ نے فرمایا : ہمارا حال اسی طرح ہوتا ہے۔ ہمارے لئے مصائب کو دگنا کردیا جاتا ہے تاکہ ہم کو اجر بھی دگنا ملے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت مصائب کس پر آتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا نبیوں پر ‘ میں نے پوچھا : پھر کس پر ؟ آپ نے فرمایا : پھر نیک لوگوں پر ‘ بیشک ان میں سے کسی ایک کو فقر میں مبتلا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اس کے پاس پہننے کے لئے صرف ایک چادر ہوتی ہے ‘ اور بیشک ان میں سے ایک شخص مصیبت سے اس طرح خوش ہوتا ہے جس طرح تم میں س کوئی ایک شخص راحت سے خوش ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٤‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٠٤٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٦٢٦‘ مسند احمد ج ٣ ص ٩٤)

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا : یارسول اللہ ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت مصیبت کس پر آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء پر ‘ پھر جو ان کے قریب ہوں ‘ پھر جو ان کے قریب ہوں ‘ سو ہر شخص اپنے دین کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ جو شخص اپنے دین میں سخت ہوتا ہے اس پر سخت مصیبت آتی ہے اور جو شخص اپنے دین میں نرم ہوتا ہے ‘ اس پر اپنے دین کے اعتبار سے مصیبت آتی ہے ‘ بندہ مسلسل مصائب میں مبتلا ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٤٠٢٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٣٣‘ مسند احمد ج ١ ص ١٧٢‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٧٨٦‘ مسند البز اررقم الحدیث ١١٥٠‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث ٨٣٠‘ صحیح ابن حبان ج ٣ ص ٣٧٢‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٧٧٥‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ١٤٣٤)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 2