أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰى فَبَغٰى عَلَيۡهِمۡ‌ۖ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَـتَـنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِى الۡقُوَّةِ اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ لَا تَفۡرَحۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا ‘ پھر اس نے ان کے خلاف سر اٹھایا ‘ اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت کو تھکا دیتی تھیں ‘ جب اس کی قوم نے اس سے کہا تم اتراؤ مت ‘ بیشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

تفسیر:

اللہ کا ارشاد ہے : بیشک قاروں موسیٰ کی قوم سے تھا ‘ پھر اس نے ان کے خلاف سر اٹھایا ‘ اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت کو تھکا دیتی تھیں ‘ جب اس کی قوم نے اس سے کہا تم اتراؤ مت ‘ بیشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش کرو ‘ اور دنیا کے حصہ کو (بھی) نہ بھولو اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے ‘ اور ملک میں سرکشی نہ کرو ‘ بیشک اللہ سرکشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص : ٧٧۔ ۷۶) 

قارون کا نام ونسب اور اس کے مال و دولت کی فروانی 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی الشافعی المتوفی ٤٧٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عم زاد تھا ‘ قارون کا نام تھا قارون بن یصھب بن قاھث اور حضرت موسیٰ کا نام تھا موسیٰ بن عمران بن قاھث۔ المومن : ٤٢۔ ٣٢ سے معلوم ہوتا ہے کہ قارون بن اسرائیل سے ہونے کے باوجود فرعون سے جا ملا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلہ میں فرعون کے بعد وہ بھی ھامان کی طرح حضرت موسیٰ کے مخالفین میں سے تھا۔

قتادہ ھن دعمہ نیھ کہا قارون تورات بہت خوش الحانی سے پڑھتا تھا ‘ لیکن وہ دشمن خدا ‘ سامری کی طرح منافق تھا ‘ وہ اپنے مال کی کثرت کی وجہ سے سرکش اور متکبر ہوگیا تھا ‘ شھر بن حوشب نے کہا وہ اپنی قوم کے سامنے بڑائی کے اظہار کے لیے اپنا لباس ایک با لشت لمبا رکھتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ طاقت ور لوگوں کی جماعت ان خزانوں کی چابیاں اٹھانے سے تھک جاتی تھی ‘ جب وہ سوار ہو کر نکلتا تھا تو ستر خچروں کے اوپر اس کے خزانے کی چابیوں کو لادا جاتا تھا ‘ اس کی قوم کے علماء نے کہا تم اتراؤ مت ‘ بیشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ‘ اور اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش کرو اور دنیا کے حصہ کو (بھی) نہ بھولو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 76