أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے مقدر کرتے ہیں جو زمین میں بڑا بننے کا ارادہ کرتے ہیں نہ فساد کرنے کا اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے مقدر کرتے ہیں جو زمین میں بڑا بننے کا ارادہ کرتے ہیں نہ فساد کرنے کا اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے ہے۔ اور جو شخص نیکی کرے گا اس اس کی نیکی سے اچھا اجر ملے گا اور جو شخص برائی کرے گا تو جنہوں نے برائی کی ہے ان کو صرف ان ہی کاموں کی سزا ملے گی جو انہوں نے کیے ہیں۔ (القصص : ۸۴۔ ۸۳)

علو اور فساد کے معنی 

اس دار آخرت سے مراد جنت ہے ‘ کام عرب میں لفظ ” ھذا “ سے اس چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جھو محسوس اور مشاہع ہو ‘ بعنی وہ شیز آنکھوں سے دکھائی دیتی ہو اور جنت کو تو قرآن مجید کے مخاطبین نے آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا پھر یہ کہنا کس طرح درست ہوگا کہ یہ آخرت کا گھر ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث میں جنت کا اتنا زیادہ ذکر آچکا ہے کہا اب لوگوں کے لیے جنت دیکھی بھالی چیز ہے۔

فرمایا ہے ہم اس کو ان لوگوں کے لیے مقدر کرتے ہیں جو زمین میں بڑا بننے کا ارادہ نہیں کرتے یعنی زمین میں اپنا تسلط اور غلبہ نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنے کا ارادہ کرتے ہیں یعنی لوگوں پر ظلم اور جبر نہیں کرتے جیسے نمرود ‘ اور فرعون وغیرہ نے ظلم اور سرکشی کی تھی ‘ فساد کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ کسی کا مال ناحق چھین لینا فساد ہے اور اللہ کی نافرمانی کرنا بھی فساد ہے اور علو سے مراد تکبر ہے اور تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لانا ہے۔

امام عبدالرحمن بن ادریس بن ابی حاتم متوفی ٧٢٣ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ نے کہا زمین میں علو اور بڑائی چاہنے سے مراد یہ ہے کہ وہ سلاطین اور بادشاہوں کے سامنے پڑا بننے کا ارادہ نہ؁ ن کرتے ‘ مسلم البطین نے کہا علو سے مراد ناحق تکبر کرنا ہے ‘ معاویۃ الاسود نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی شخص کی عزت اور وجاہت میں مناقشہ اور منا زعتہ نہیں کرتے یعنی کسی شخص سے اس کی بڑائی چھیننے کا قصد نہیں کرتے ‘ ضحاک نے کہا وہ ظلم نہیں کرتے یا حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ حضرت علی نے فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اس کے دوست کی جوتی کے تسمہ سے اچھا ہو تو وہ بھی اس آیت میں داخل ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٣٢٠٣۔ ٢٢٠٣‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٧١٤١ ھ)

حضرت علی کے ارشاد کی توجیہ یہ ہے کہ وہ اپنے دوست پر اپنے بڑائی کے اظہار کے لیے اور اپنے دوست کو حقیر قرار دینے کے لیے یہ ارادہ نہ کرے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اس کے دوست کی جوتی سے اچھا ہے کیونکہ سنن ابوداؤد میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا وہ خوب صورت تھا ‘ اس نے کہا یا رسول اللہ حسن اور جمال میرے نزدیک پسنددیدہ ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجھے کس قدر حسن دیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص مجھ سے بڑھ جائے خواہ وہ جوتی کا تمسہ میں ہی مجھ سے بڑھے ‘ آیا یہ تکبر ہے آپ نے فرمایا : نہیں ‘ لیکن تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٩٠٤‘ مطبوعہ بیروت ‘ ٤١٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 83