حضور تاج الشریعہ علمائےعالم کی نظر میں

از محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

رکن :روشن مستقبل دہلی

چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ

20 جولائی بوقت شام ساڑھے سات بجے جیسے ہی عالم اسلام کو یہ خبر پہنچی کے قاضی القضاۃ فی الہند فضیلة الشیخ محمد اختر رضا خان المعروف تاج الشریعہ ازہری میاں اس دار فانی سے کوچ کر گئے جسم منجمد ہو گیا کچھ دیر تو حواس سلامت نہ رہے اور خبر پر یقین نہ ہوا مگر جب ہر جگہ سے اس خبر کی تصدیق ہوتی چلی گئی تو تسلیم سے انکار کی گنجائش نہ رہی اور دل ڈوبتا چلا گیا کیونکہ /وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

عالم اسلام میں کہرام مچ گیا کیا فون، انٹرنیٹ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا پر کثرت پیغام کی باڑھ سی آگئی، کیا عرب کیا عجم ہر طرف بس ایک ہی چرچا ایک ہی ذکر علماء سے لے کر عوام تک اضطراب کی کیفیت جلد سے جلد بریلی پہنچنے کی للک اپنے دینی پیشوا کے آخری دیدار کے خواہشمند معتقدین کو موسلادھار بارش بھی نہ روک سکی خود بریلی شریف میں جہاں حضور تاج الشریعہ(علیہ الرحمہ) کا آخری دیدار کرایا جارہا تھا گھٹنوں تک پانی بھرا ہوا تھا اور راستے کے دونوں کناروں پر کھڑے ہو کر محبین درود و سلام کی ڈالیاں نچھاور کر رہے تھے، ہزاروں لاکھوں اپنے جذبات کو قابو میں کیے ہوئے تھے مگر ان کے دل رو رہے تھے اور ہزاروں دھاڑیں مار مار کر زاروقطار رو رہے تھے ایسی دیوانگی ایسا منظر ہماری نظروں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا مجمع کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو کانگریس صدر راہل گاندھی بھی بول پڑے کہ “ایسی بھیڑ انھوں نے آج تک نہ دیکھی” اتنا ازدحام ہونا ایسے ہی نہیں ہے بلکے رب تعالیٰ اپنے محبین کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں ارشاد باری ہے” ان الذین امنو وعملو الصالحات سیجعل لھم الرحمن وداً” بے شک جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے اللہ ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا. حضرت کی حیات مبارکہ میں بھی یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ جہاں کہیں بھی قدم رنجاں ہوئے مخلوق خدا کو سنبھالنا مشکل ہو گیا. آمدم برسر مطلب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی مقبولیت محض ہندو، سندھ ایشیائی ممالک تک ہی محدود نہ تھی بلکہ افریقی ممالک سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں آپ کی علمی شان و شوکت کا سکہ چلتا تھا وصال کے محض ایک گھنٹہ بعد ہی ساری دنیا کے علماء، عوام و خواص کے تعزیتی پیغامات سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگے تھے ترکی، صومالیہ، سوڈان، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، امریکہ، فلسطین، انگلینڈ، شمالی کوریا، پاکستان، بنگلہ دیش، دبئی، قطر، عمان وغیرہ ممالک سے بھی پیغام موصول ہوئے اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے گی اس لیے ہم نے یہاں کچھ عرب اور غیر عرب علماء کے پیغامات جمع کئے ہیں تاکہ انہیں پڑھ کر آپ کی علمی شوکت و لیاقت کا اندازہ لگایا جا سکے کیونکہ علماء وہ بھی دیار غیر کے کسی غیر عرب عالم کی شان میں ایسے ہی رطب اللسان نہیں ہوتے اور کیوں نہ ہو کہ آپ سے سند حدیث و فقہ کے حصول کو اپنے لیے باعث خیر و برکت گردانتے تھے نیز طریقت میں بھی عرب دنیا میں آپ کے کئی خلفاء پائے جاتے ہیں مولانا انوار احمد بغدادی آپ کے خلفاء کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں” ولہ خلفاء فی الطریقة في عدة دول عربية واجنبية فضلا عن شبه القاره الهندية ففي العرب مثلا الشيخ محمد عمر سليم من العراق، و الشيخ عبدالعزيز من دبي، والشيخ كمال يوسف الحوت من لبنان، والشيخ دائل الحنبلي من دمشق، و الشيخ عارف جميل من فلسطين وصدف لي ان التقيت باخر الذكر فوجدته متاثرا جدا بالشخصية الشيخ الازهري وحسن ديباجته وتحدث لي قائلا” انني سعيد جدا بان أعطاني الشيخ الازهري سند اجازة وخلافة ولا فرح عندي اكبر من ذلك”

ترجمہ :

طریقت میں بھی آپ کے کئ خلفاء عرب و عجم میں پائے جاتے ہیں ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا کے خلفاء کے علاوہ عرب میں جیسے شیخ محمد سلیم عراقی، شیخ عبدالعزیز دبئی، شیخ کمال یوسف حوت لبنان، شیخ دائل الحنبلی دمشق، شیخ عارف جمیل فلسطین وغیرہ شامل ہیں. موخرالذکر سے میری ملاقات ہے میں نے انہیں شیخ ازہری کی شخصیت اور اخلاق سے بہت ہی زیادہ متاثر پایا ایک مرتبہ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ “یہ میری خوش بختی ہے کہ شیخ ازہری نے مجھے سند اجازت و خلافت سے نوازا اس سے بڑھ کر میرے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں” تو آئیے بغیر کسی تمہید و تبصرہ کے ہم ان عرب و غیر عرب علماء کے اقوال لفظ بلفظ نقل کرتے ہیں تاکہ قارئین کو آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ ہو سکے اور وہ یہ جان لیں کہ علماء عرب و عجم نے آپ کو کیسے کیسے القابات کے ساتھ فرمایا ہے.

عرش پر دھومیں مچیں وہ مومن صالح ملا

فرش پر ماتم اٹھے وہ طیّب وہ طاہر گیا.

الحبیب علی الجعفري – – – – –

انا لله و انا اليه راجعون.

فقدت الامة علمامن اعلام الهدى وھو مفتی الهند الاعظم الفقيه المحدث شيخنا تاج الشريعة محمد اختر رضا خان الحنفي القادري الازهري. ولد رحمه الله يوم الاثنين السادس والعشرين من شهر محرم لعام 1362ھ الموافق من شهر فبراير لعام (1943ء) بمدينة بريلي في شمال الهند وهو من بيت علم عريق فهو ابن الشيخ المفسر العظم في الهند مولانا ابراهيم رضا (المکنی جيلاني میاں) ابن حجة الاسلام الشيخ محمد حامد رضا ابن الامام الكبير احمد رضا الحنفي البریلوی. ومن جهة والدته فان جده من والدته هو المفتي الأعظم الشيخ محمد مصطفي رضا خان القادری الحنفي البركاتي، ابن الشيخ احمد رضا خان الحنفي البريلوي. اخذ الشيخ حفظه الله الدروس الاولویة و العلوم الابتدائية العقلية و الدينية عن العلماء الاكابر المعروفين في وقته، وعن والده طالبه وجده وجده من والدته الشيخ محمد مصطفى رضا خان. وحصل على شهادة خريج العلوم الدينية من دار العلوم منظر الاسلام بمسقط راسه مدينة برىلى. ثم اكمل ادامه الله تعليمه في جامعة الازهر الشريف بالقاهره و تخرج من كلية اصول الدين بارعا في الاحاديث و علومها ومتضلعا بھا. وقد استخلفه المفتی الاعظم بالھند الشيخ محمد مصطفى رضا خان قبل وفاته. فبرع الشيخ في الافتاء وفی حل المسائل المعقدة المتعلقة بالفقه. وکان الشيخ یفتی ویعظ ويؤلف باللغات العربية و الار دویة و الانجليزية.

للشيخ رحمه الله العديد من المؤلفات منها فتاواہ المعروفة” بازھر الفتاوى” في خمس مجلدات وفتاواہ باللغة الانجليزيه ايضا، وله حاشية على صحيح البخاري كما ان له شرحا على بردة المديح اسمه” الفردة في شرح قصيدة البردة” وقد شرف الفقير بزيارة كريمة من الشيخ في المنزل عقد فيها مجلس عظيم في روحانيته وحضورہ، و تكرم على الفقير فيها باجازة مرویاته واسانيده عن اشياخه وکذلک فی مصنفاته، كما عطر المجلس بانشاد عذب لقصيدة من نظمه، وحصل بين الارواح انسجام والفة وجمعية قدسية ذوقیة.

رحمه الله رحمه الابرار واسكنه الفردوس الاعلى من الجنة والحقه باسلافه الصالحين، واخلفه في اولاده وطلبته ومریدیه وذويه وفينا في الامة بخلف صالح، ولا حرمنا اجره ولا فتننا بعدہ انه نعم المولى ونعم النصير.

ترجمہ : اناللہ واناالیہ راجعون.

یقینا امت نے ہدایت کے مناروں میں سے ایک منارہ کھو دیا اور وہ مفتی اعظم ہند، فقیہ، محدث ہمارے حضور تاج الشریعہ محمد اختر رضا خان ازہری حنفی قادری ہیں آپ کی ولادت باسعادت بروز اتوار 26 محرم مطابق دو فروری (1947ء) میں شہر بریلی میں ہوئی آپ کا تعلق مشہور علمی گھرانے سے ہے آپ مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خان (جیلانی میاں) کے فرزند ارجمند ہیں آپ کے جد امجد حجة الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ہیں جو سیدی امام کبیر مولانا احمد رضا خاں( رضی اللہ عنہ) کے بڑے صاحبزادے ہیں آپ نے ابتدائی علوم دینیہ عقلیہ و نقلیہ اپنے زمانے کے معروف اکابرین سے حاصل کیے جن میں آپ کے والد، دادا اور نانا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ جیسے معروف اکابرین شامل ہیں. علوم دینیہ کی تکمیل دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے کی، بعدہ جامعہ ازہر شریف سے اصول فقہ اور اصول حدیث کی سند اعتزاز حاصل کی، مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے قبل وفات آپ کو خلافت و اجازت سے نوازا، آپ مسند افتاء پر بیٹھے تو علم فقہ کے پیچیدہ مسائل کی گھتیاں سلجھائیں ساتھ ہی ساتھ وعظ و تبلیغ، تصنیف کا کام بھی جاری رہا آپ کی چند مشہور تالیفات میں آپ کا مشہور فتاویٰ “ازھر الفتاوى” ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے آپ کے فتاوی اور تصانیف اردو عربی انگریزی تینوں زبانوں میں پائے جاتے ہیں. حاشیہ صحیح بخاری، قصیدہ بردہ کی شرح “الفردہ فی شرح قصیدة البردة ” کے نام سے موسوم ہے.

فقیر کو بھی زیارت کا شرف حاصل ہے ایک مجلس جس میں آپ کی شرکت دلوں کو سکون بخش رہی تھی اسی مجلس میں اپنی چند تصانیف اور سند حدیث سے نوازا جو انہیں اپنے شیوخ سے وراثتا حاصل ہوئی تھیں. پیارے انداز میں نظم کا پڑھنا سامعین میں الفت، ذوق پیدا کررہا تھا اور ماحول کو پاکیزہ کر رہا تھا.

اللہ رب العزت ان پر رحمتوں کا نزول فرمائے اور فردوس اعلی کو ان کا مسکن بنائے، سلف صالحین میں شامل فرمائے ان کی اولاد کو ان کا جانشین بنائے ان کے طلباء، مریدین، محبین، اقرباء کو خلف صالح عطا فرمائے، ہمیں ان کے فیض سے محروم نہ فرمائے اور نہ ہی فتنوں، آزمائشوں میں مبتلا فرمائے، بیشک وہی مددگار ہے اور بہترین مدد کرنے والا ہے.

حازم محفوظ – – – – –

رحل عن عالمنا في مساء يوم الجمعه 20 من شهر يوليو 2018 م شيخنا الامام مولانا “محمد اختر رضا الهندي الازهري” اكبر شيوخ التصوف الإسلامي المستنير في الهند…. شرفت باللقاء به لاول مرة في مدينه كراتشي( کراچی) الباكستانية اثناء انعقاد المؤتمر الدولي للاحتفال بعيد ميلاد النبي الاكرم في شهر يناير من عام 2001م.

قدمني له استاذي الشيخ المحدث” عبد الحكيم شرف القادري “وبعد ان تصافحنا قال لي “لقد سمعنا عنك في الهند وقرنا ما كتبت عن جدنا امام الصوفية في الهند مولانا احمد رضا خان. ثم دعا لي بالخير…. هذا وحرصت علی اللقاء به عدة مرات في ايام المؤتمر الدولي… ثم تفضل بمنحى سندالاجازة العلمية العامة في العلوم الإسلامية، المؤرخ في المؤرخ 29 من شهر شوال من عام 1421ھ الموافق 25 من شهر يناير من عام 2001 م… وفی عام 2009 قدم شيخنا في القاهرة، اتصل بي بعض الاخوه الهنود ممن يتلقون العلم في جامعة الأزهر،وطلبوا مني الموافقة على اصدار الطبيعية الثانية من كتاب المتواضع “مولانا محمد احمد رضا البريلوي الهندي عند صفوة من مفكر العرب المعاصرين” (يقع 375صحيفة) وذلك ترحيبا بمقدم شيخنا وعلى ان يوزع هدية مجانية في الاحتفالية الكبرى في مركز الشيخ صالح كامل… فرحبت بهذه المبادرة… وتم بالفعل اصدار الطبيعيةالثانية من الكتاب المذكور… وفي الاحتفالية الكبرى، شرفت بلقاء شيخنا الامام و كان لقاء علم و خير… فرحمه الله شيخنا الامام محمد اختر رضا خان الأزهري وادخله فسيح جناته… امين.

ترجمہ : 20 جولائی 2018 ء جمعہ کی شام کو ہمارے امام شیخ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری ہندی (علیہ الرحمہ) اس دار فانی سے کوچ کر گئے، وہ اسلامی تصوف کے بڑے شیخ تھے جن کے نور سے بلادہند روشن تھے. اولا ملاقات کا شرف 2001 ء میں شہر کراچی پاکستان میں ہوا جہاں ایک بین الاقوامی عیدملادنبی السلام کانفرنس میں حضرت نے شرکت فرمائی تھی. میرے شیخ حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری نے حضرت سے ملاقات کرائی، مصافحہ کے بعد میں نے عرض کیا کہ ہم نے آپ کے متعلق کا فی سنا ہے اور بعض کتب جو آپ نے اپنے جد امجد امام اہل سنت علامہ احمد رضا خان قادری کی تحریر فرمائیں ہیں ان کو پڑھا بھی ہے، تو انہوں نے ہمارے لئے دعائے خیر فرمائی، پھر چند ملاقاتیں اور ہوئیں اور میں قیام کے دوران ملاقات کا متمنی ہی رہا. پھر دوسری ملاقات کے 29 شوال 1421ھ مطابق 25 جنوری 2001ء کو جلسہ دستاربندی میں شرکت کے موقع پر ہوئی، بعدہ 2009ء میں ہمارے شیخ امام اختر رضا خان ہندی ازھری قاہرہ (مصر) تشریف لائے اور جامعہ ازہر میں شیخ صالح کامل کے مرکز پر ایک بڑے دینی جلسہ میں شرکت فرمائی، میں اور بعض ہندی احباب اس امر پر متفق ہوئے کہ “مولانا احمد رضا البریلوی عند صفوة من مفکر العرب المعاصرين ” کی دوبارہ اشاعت کی جائے، ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا کیونکہ یہ ایک بہترین ھدیہ تھا شیخ صالح کا عمل کے مرکز پر ہونے والے عظیم جلسے کے لیے، اس طرح کتاب مذکور کی اشاعت ثانیہ عمل میں آئی اور ہم نے اس عظیم جلسہ میں اپنے شیخ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور یہ ملاقات علم و خیر سے بھری ہوئی تھی.

اللہ ہمارے شیخ اختررضاخان ہندی ازہری پر رحمتوں کا نزول فرمائے اور اپنی کشادہ جنت میں جگہ عطا فرمائے. آمین.

رامی العباد – – – – – –

بسم الله الرحمن الرحيم. كل نفس ذائقه الموت.

ببالغ الحزن والاسى تلقينا خبر وفاة تاج الشريعه امام اهل السنة والجماعة في بلاد الهند والسند والباكستان وسائر القارة الهندية، فضيلة العلامة الشيخ الولي اختر رضا خان القادري الحنفي الماتريدي الأزهري، شيخ الطريقة القادرية راجين من العلي القدير ان يتغمده برحمته الواسعة وان يسكنه فسيح جناته وان يلهم اهله وذويه ومحبيه جميل الصبر والسلوان. انا لله وانا اليه راجعون.

ترجمہ : اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا. ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے.

ہندو سندھ، پاکستان، بنگلہ دیش بلکہ براعظم ایشیا کے مشہور عالم دین، سلسلہ قادریہ کے مقبول ترین شیخ طریقت حضرت العلام فضیلۃ الشیخ ولی اختر رضا خان قادری حنفی ماتریدی ازھری (علیہ الرحمہ) وصال پرملال کی خبر سن کر نہایت ہی رنج و غم ہوا، امید کرتے ہیں کہ رب قدیر انہیں اپنے سایہ رحمت میں ڈھانپے اور انکا مسکن کشادہ جنت کو بنائے، اہل و عیال، قرابتدار، محبین، مریدین کو صبر جمیل عطا فرمائے.

شیخ احمد محمود فارس اہل السنة والجماعة – – –

انا فوجعنا بموت الشيخ العلامة، البحر الفهامة، تاج الشريعة والطريقة حفيد الشيخ مولانا احمد رضا خان المجدد القرن الرابع العشر احمد رضا القادري قدس الله روحه و سره. بموت مولانا الشيخ اختر رضا خان القادري الحنفي فرحمة الله تعالى رحمة واسعة، ونحن نعزي اهله وذريته واولاده الصالحين وجماعته الأكرمين وإخوانه المكرمين اعظم الله أجرهم و رفع قدرهم ورحم ميتهم ولكن جبر مصيبة الشيخ اختر رضا خان بالنسب الى الله تعالى ممكن وهو على كل شيء قدير و لكن حضرة العالم العلامة احي السنة ومات البدعة في هذا الزمان الغريب الفاسد،بالنسب الينا هذه المصيبة لا تجبر، مصيبة موت العالم شيء عظيم لان الله تعالى قال في كتابه “افلا يرون انا ناتي الارض ننقصها من اطرافها( انبياء 43)معنى نقص اطراف الأرض قال ابن عباس رضي الله عنهما” خراب الارض ونقصها بموت علماءها وفقهاءها” ان موت العلماء والفقهاء مصيبة ونقص في العالم جميعيه و تمامه. وقال امام مجاهد” نقص الارض موت العلماء” لان موت العلمائ يقبض العلم كما ورد في الحديث عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم “ان الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى اذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جهالا فسئلوا فافتوا بغير علم فضلوا واضلوا” نعوذ بالله تعالى من ادراک هذا الزمان الآن علمائنا موجودون ولكن قليلون وعلماء اهل السنة والجماعة اقل من قليل واعز من الكبريت الاحمر في هذا الزمان غريب الفاسد، ولذا نحن حزنا كثيرا بموت الشيخ اختر رضا خان قادري قدس الله سره حزنا كثيرا. لان ورد في الحديث نقله الامام الغزالي في منهاج العابدين” من لم يحزن بموت عالم فهو منافق” فانه لا مصيبة اعظم من موت العالم و ما من مؤمن يحزن بموت العالم الا كتب الله له ثواب الف عالم والف شهيد.

العلماء كثيرون ولكن كيف نجد عالم مثل اختر رضا خان قادري. قال النبي صلى الله تعالى عليه وسلم لموت قبيلة ايسر من موت عالم، وعن ابن مسعود وحسن البصري رضي الله عنهما موتُ العالِم کموت العالَم، لان العالَم بدون العلماء کللحم بدون الملح. وقال ابن عباس رضي الله عنه موت العالم ظلمة في الاسلام لا يضيئھا بشيء ماختلف الليل والنهار. وعن عمر بن الخطاب لموت من الف عابد قائم بالليل وصائم بالنهار اهون من موت عالم واحد يعلم ما احل الله وما حرمه وان لم يزدد على الفرائض،لان عبادة العابدين لانفسهم وعلم العلماء للامة،جميعهم. وازداد علي الفرائض مثل سيدنا الشيخ اختر رضا خان الا كان يزداد على الفرائض بالسنن والنوافل و الدلائل الخيرات و القصيدة البردة وسائر مداح النبي صلى الله عليه وسلم او صلوات الشريفة كان يعمر جميع اوقاته بالفكر والذكر والافتاء كان قاضي القضاة في العالم افتي اكثر من خمسة آلاف فتاوي (5000) أصدر فتاوي بنفع العباد.

فرحمه الله تعالى رحمة واسعة وارفع درجاته والحقه باشياخه الصالحين في الدرجات العلى يوم القيامه والحقه بجد مجدد القرن الرابع العشر احمد رضا خان القادري واحي الله ذريته الطيبة على ملة الاسلامية و طريق جده. امين.

ترجمہ : چودھویں صدی کے مجدد حضرت العلام امام احمد رضا( رحمہ اللہ تعالی) کے پوتے شیخ عالم، علامہ، بحرذخار، مفتی اعظم ہند تاج شریعت و طریقت مولانا اختر رضا خان ازہری کے وصال پر ملال سے ہم نہایت ہی رنجیدہ ہیں ان کی رحلت پر ہم اظہارِ تعزیت پیش کرتے ہیں انکے اہل و عیال، اعزا، اقربا، برادران کو. اللہ انہیں بہتر اجر عطا فرمائے ان کی عزت بڑھائے اور میت پر رحمتوں کا نزول فرمائے.

شیخ اختر رضا خان کی بھرپائی رب قدیر کی طرف سے نسبت کرتے ہوئے ممکن ہے کیونکہ وہ ہر ممکن شئ پر قادر ہے لیکن حضرت عالم، علامہ، محی سنت ، ماحی بدعت کی رحلت کی مصیبت ایسا عظیم خسارہ ہے جس کا بدل نظر نہیں آتا. عالم کی موت کی مصیبت بڑی چیز ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے کلام میں فرمایا “أفلا یرون انا ناتی الأرض ننقصھا من اطرافھا” تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں( سورہ انبیا آیت نمبر 43) زمین کے اطراف میں نقص کہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یوں بیان فرماتے ہیں “خراب الارض ونقصھا بموت علمائھا وفقہائھا “زمین کا خراب ہونا یا عیب دار ہونا یہ ہے کہ اس سے علماء فقہاء اٹھا لیے جائیں گے. قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علماء فقہاء کی موت تمام عالم کے لئے مصیبت اور باعث نقصان ہے امام مجاہد فرماتے ہیں زمین کا نقص علماء کی موت ہے کیونکہ علم ایسے ہی اٹھایا جائے گا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی علم کو اس طرح نہ اٹھائے گا کہ ایک دم سے بندوں کے سینوں سے اسے کھینچ لے بلکہ اللہ تعالی اہل علم کو وفات دے کر علم کو اٹھائے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم دین باقی نہیں رہے گا تو عوام جاہلوں کو مقتدا بنا لیں گے ان سے مسائل پوچھیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے.

اللہ کی پناہ! اب اس فاسد زمانے میں علما بہت کم ہیں اور اہل سنت میں بہت ہی کم کبریت احمر کی طرح نایاب ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیں شیخ اختر رضا خان قادری کی موت سے سخت غمگین کر دیا ہے اور ہم اس لیے بھی رنجور ہیں کہ عالم کی موت پر غمزدہ ہونا علامت ایمان ہے. امام غزالی علیہ الرحمہ اپنی کتاب “منہاجالعابدین” میں فرماتے ہیں کہ جو عالم کی موت پر رنجیدہ نہ ہو وہ منافق ہے. کیونکہ عالم کی وفات سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں. اور ایک حدیث میں ہے جو مومن عالم کی موت پر غم کا اظہار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سو شہیدوں اور سو عالموں کا ثواب عطا فرماتا ہے.

عالم تو بہت ہیں مگر دوسرا اختر رضا کہاں نصیب! اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ایک قبیلے کی موت ایک عالم کے مقابلے ہلکی ہے” حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے عالِم کی موت ایک عالَم کی موت ہے کیونکہ عالم بغیر علماء کے ایسا ہی ہے جیسے گوشت بغیر نمک کےاور حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے عالم کی موت ایسی تاریکی ہے جیسے شب و روز کا اختلاف روشن نہیں کر سکتا. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک ہزار ایسے عابدوں کی موت جو دن بھر روزہ رکھتے ہوں اور شب بھر نماز پڑھتے ہوں زیادہ بھاری ہے ایک ایسے عالم کی موت پر جو رب کے حلال کئے ہوئے کو حلال اور حرام کئے ہوئے کو حرام جانتا ہو اگرچہ وہ فرائض پر زیادتی نہ کرتا ہو کیونکہ عابدوں کی عبادت اپنے نفس کے لیے ہے اور علماء کا علم جمیع مخلوق کے لیے ہے.

اور اگر فرائض پر زیادتی کرتا ہو جیسے ہمارے شیخ محمد اختر رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کہ فرائض، سنن نوافل، دلائل الخیرات، قصیدہ بردہ، نعت ومنقبت، اورادووظائف، ذکروفکر، بحیثیت قاضی القضاۃ افتاء جیسے دینی امور پر ہی عمر گزارنے والا ہو بلکہ شب روز کے جمیع اوقات کا یہی معمول اور مشغلہ ہو تو اس کے درجات کا کیا کہنا، علاوہ ازیں تالیفات عربی، اردو، انگریزی تینوں زبانوں میں پائی جاتی ہیں اور آپکا فتاویٰ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو فتاوی ازہریہ” کے نام سے موسوم ہے آپکی 150 سے زائد تصانیف دینی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں.

اللہ رب العزت ان کو اپنے سایہ رحمت میں لے، ان کے درجات کو بلند فرمائے بروز محشر اپنے شیوخ کے ساتھ اعلی علیین میں انکا مسکن بنائے اور مجدد امام احمد رضا کے ساتھ انہیں شامل فرمائے، ان کی اولاد کو دین اسلام پر ثبات عطا فرمائے اور اسلاف کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

احمد محمود شریف – – ——-

وفاء بنزر یسیر من حق الامام الجليل مفتی الهند الاعظم وامام اہل السنة والجماعة في القارة الهندية وما حولها، اختر رضا خان الحنفي القادري الازهري البريلوی.

نجتمع غدا ان شاء الله في صلاة المغرب بمسجد مولانا الامام الحسين رضي الله عنه ثم نختم القران له بعدد ما يفتح الله علينا به من ختمات ثم ندعو اللہ له في بالمشهد الحسيني عند سيد شباب اهل الجنة رضي الله عنه عسى الله أن یقبلنا جمیعا ویرحمنا وان یقبل دعائنا للإمام رحمہ اللہ. و الدعوة عامة للجميع من اخواننا، طلاب العلم والسادة اھل الطریق وغيرهم من المحبين. رحم الله فقيد الامة وادخله مدخل صدق مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين.

ترجمہ : امام جلیل مفتی اعظم ہند و براعظم ایشیا، امام اہل سنت علامہ اختر رضا خان حنفی قادری بریلوی (رحمۃ اللہ علیہ) داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ان شاءاللہ ہم بعدنمازمغرب مسجد امام حسین رضی اللہ عنہ میں جمع ہو کر قرآن خوانی کا اہتمام کریں گے جتنا میسر آئے اور اللہ رب العزت سے دعا کریں گے جنتی نوجوانوں کے سردار حضرت امام حسین کی بارگاہ میں امید ہے کہ اللہ ہم سب کا نذرانہ تاج الشریعہ کے حق میں قبول فرمائے گا جملہ طلبہ، سادات، اہل طریقت، محبین کو عام دعوت ہے.

اللہ تعالیٰ اس نابغہ روزگار پر رحم فرمائے اور انہیں صدیقین شہداء صالحین کے ساتھ شامل فرمائے آمین.

محمد علی یمانی – – – – – -مکہ معظمہ

نعزي انفسنا و المسلمين جميعا بوفاة شیخنا بالإجازة امام اهل السنة والجماعة في بلاد الهند والسند والباكستان وسائر القارة الهندية فضيلة العلامة الشيخ الولي اختر رضا خان القادري الحنفي الماتريدي. نسال الله له المزيد من النعيم و ان يجمعنا معه تحت ظل عرشه يوم لا ظل الا ظله مع العافية في الدنيا والآخرة.

انا لله وانا اليه راجعون.

ہم اپنے شیخ اجازت فضیلۃ العلام امام اہلسنت والجماعت ہند، سندھ، پاکستان میں و دیگر ایشیائی ممالک کے افراد شیخ ولی اختر رضا خان قادری حنفی ماتریدی کے وصال پرملال پر اظہار تعزیت پیش کرتے ہیں.

رب کریم سے دعا گو ہیں کہ ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ہمیں ان کے ساتھ جمع فرمائے اپنے عرش کے سائے میں جس دن اس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، دنیا و آخرت میں عافیت فرمائے انا اللہ وان الیہ راجعون.

نضال و ابراهيم آلہ رشی——- دمشقي تركي.

رحم الله الشيخ محمد اختر رضا خان كان جاء الى دمشق منذ ما يقارب عشر سنوات وكنت حينئذ في الشام الحبيبة المباركة فالتصل بي ودعاني في جمع من مشايخ دمشق. وقال لي نقلت من كتابك رفع الغاشية ثمانية صفحات. اللهم اكرم الله نزلہ وارفعه في علیین بفضلك وكرمك يا رب العالمين.

ترجمہ

رب قدیر شیخ اختر رضاخان پر رحم فرمائے، تقریبا دس سال قبل میری ملاقات دمشق میں ہوئی تھی میں بھی شام میں مقیم تھا مشائخ دمشق کے جمگھٹے مجھے بلایا اور فرمایا “میں نے آپ کی کتاب رفع الغاشیہ کو اسی صفحات تک نقل کیا ہے. اللہ اپنے فضل و کرم سے شیخ کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے آمین.

شیخ احمد ضبع – – – – – – – – – –

ان نادرة الأزمان سيدنا محمد النبهان احباب الدكتور الشيخ محمد الحوت نعزي انفسنا المسلمين جميعا و اهل السنة والجماعة في القارة الهندية وسائر الامصار في وفاة امام اهل السنة والجماعة بالهند، العلامة المفتی الاعظم الھند القاضی اختر رضا خان الحنفي الازھری البربري القادري رحمه الله رحمة واسعة والحقه بالصالحين ملتقى طلاب العلم( عقيده) وملتقی طلاب العلم( فقه)

ترجمہ : نادر زمن سیدنا محمد نبہان شیخ محمود حوت کے احباب اور جملہ مسلمانان اہلسنت و جماعت ہندو بلاداسلامیہ امام اہلسنت، مفتی اعظم ہند قاضی اختررضاخان کے وصال پرملال پر اظہار تعزیت پیش کرتے ہیں.

اللہ رب العزت ان پر خوب خوب رحمتوں کی بارش فرمائے اور صالحین کے ساتھ شامل فرمائے.

احباب الشیخ عبد العزیز الخطیب الحسنی – – —

ننعی الى العالم الاسلامي شيخنا المجيز العلامة محمد اختر رضا خان الازهرى البرىلوى الملقب بتاج الشریعة المفتي بالبلاد الهندية وشيخ الطريقة القادرية عن عمر ناهز المئه عام مليئة بالفضل والخبر والعطاء والعلم والتعليم والثناء العاطر والتربية القويمة والذکر النقی و صیت الذائع في الفضيلة وحسن السمت.

ولد سنة1362ھ و تخرج من جامعه الازهر سنة 1966ء يتحدث العربية بطلاقة وهو حنفي ما تريدي قادري يقوم بترجمة مؤلفات جده العلامة الشيخ احمد رضا خان الى العربية. له شعر و قصائد وكتب في نقد الوھابیة وتبيان حقيقة البريلوية وله عده تالیف في العقيدة والفقه تغمده الله بواسع رحمته وعوضه رضوانه زقانه والجنة والحقه بخيارالصالحين من احبابه بعض وعوض المسلمين خیرا.

ترجمہ

ہم عالم اسلام کو اپنے شیخ مجیز حضرت علامہ اختر رضا خان قادری کے وصال پر ملال کی خبر دیتے ہیں جن کا لقب تاج الشریعہ ہے آپ ہندوستان کے مفتی اعظم اور سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ تھے آپ کی عمر شریف سو سال سے کم ہوئی. ساری عمر علم فضل، تعلیم و تعلم، ذکر جمیل اور اچھی تربیت سے مملو نظر آتی ہے، آپ کی فضیلت و اخلاق سب پر عیاں. آپ کی ولادت باسعادت 1362ھ مطابق 1943ء میں ہوئی جامعہ ازھر سے فراغت 1966ء میں ہوئی، آپ عربی زبان بلا جھجھک بولتے تھے، مسلکا حنفی ماتریدی مشربا قادری تھے. آپ نے اپنے جد امجد حضرت علامہ احمد رضا خان قادری حنفی بریلوی کی چند کتب کو عربی جامہ پہنایا ہے، شعر و قصائد میں مکمل دیوان (دیوان اختر) ہے آپ نے رد وہابیت اور حقیقت بریلویت کو ظاہر وباہر فرمایا ہے عقیدہ و فقہ میں بھی آپ کی تصانیف پائی جاتی ہیں.

رب قدیر شیخ کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کو اپنی رضا اور جنت عطا فرمائے، سلف صالحین کے ساتھ شامل فرمائے.

شیخ احمد حبال الرفاعي ————

انتقل اليوم الى رحمة الله تعالى شيخی تاج الشريعة والحقيفة في الهند ومفتی الهند سابقا الوارث المحمدي الشيخ اختر الازهري الذي كان من اصدقاء شیخنا احمد حبال الرفاعي، اللهم احدد عليھما رحماتک، و كان يزورہ في مجالس الصلاة النبي صلى الله عليه وسلم في الشام كلما زار سوریا (شام) نسال الله ان يرحمه برحمته التي وسعت كل شيء ويجمعنا بها مع الحبيب المصطفى صلى الله عليه وسلم، الصلاة على سيد الشيخ اختر رضا خان اللهم جدد عليه رحماتک ستكون يوم الاحد القادم بعد صلاة الظهر في مدينة بريلي الشريفة.

ترجمہ

میرے شیخ تاج الشریعہ اور سابق مفتی اعظم ہند، علوم شریعت محمدی کے وارث شیخ اختر رضا خان قادری ازہری جو ہمارے شیخ احمد حبال الرفاعی کے حلقہ احباب میں تھے آج ان کا بریلی شریف میں انتقال ہوگیا ہے. اللہ ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے.

میں ملک شام میں ایک مجلس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کی زیارت سے شرف یاب ہوا تھا، ہم رب کریم کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ ان پر رحمت کی بارش برسائے اور ہمیں ان دونوں حضرات کی معیت میں اپنے حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھائے، ان کی نماز جنازہ بروز اتوار بریلی شریف میں بعد نماز ظہر ہوگی.

محمد بادنجکی – —-————

اخواني واحبتی الكريم يحزنني ان اخبركم ان فضيلة الشيخ العالم الكبير القاضى مفتي الديار الهندية اختر رضا خان قد انتقل الى رحمة الله مساء يوم الجمعة حوالي الساعة السابعة والنصف مساء. نامل منكم الدعاء له بان يكون مع الانبياء والصحابة والصديقين والشهداء.

ترجمہ

میرے بھائیو معزز احباب! بڑے ہی رنج و ملال کے ساتھ آپ کو خبر دیتا ہوں کہ فضیلۃ الشیخ، عالم کبیر، قاضی القضاۃ ، مفتی دیار ہند حضرت علامہ اختر رضا خان آج جمعہ کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے اس دار فانی سے کوچ کر گئے، آپ حضرات سے انکے لیے دعا کی درخواست ہے، رب العالمین انھیں انبیاء، صحابہ، صدیقین، شہداء میں شامل فرمائے.

محمد محمود ابوه الحاجي – – – – – – –

رحم الله مفتي الديار الهندية وامام اهل السنة والجماعة في هذا العصر الشيخ اختر رضا حفيد الامام نادرة عصره احمد رضا خان بریلوی، و قد قلت بهذه المناسبة الاليمة.

نابغہ روزگار امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے امام اہلسنت والجماعت مفتی دیار ہند شیخ، اختر رضاخان پر اللہ رحم فرمائے اس المناک موقع کی مناسبت پر میں نے ایک نظم کہی ہے ملاحظہ فرمائیں.

(1) نبأ اقض مضاجعي وبرانی

وتضعضعت من ھولہ اركانی

ان کی وفات کی خبر نے میرا چین و سکون چھین لیا ہے اور اس خبر کی ہولناکی نے میرے جسم کو کمزور کر دیا ہے.

(2)وانھد رکن الدین بعد ثباتہ

لما نعو لی درۃ الازمان

دین کا ایک ستون ان کے ثبات کے بعد ڈھ گیا جب لوگوں نے اس در یتیم کی موت کی خبر دی.

(3)اخترا البحر الذي قذفث لنا

امواجہ باالدر و المرجان

ہم نے ایسا بحری اختر کھو دیا ہے جس کی موجوں نے موتی مرجان عطا کیے ہیں آپ شریعت، حقیقت اور ہدایت کے تاج تھے مخلوق کے قطب اور مصیبت زدوں کے غوث تھے.

(4)تاج الشریعة والحقیقة والھدی

قطب الوری غوث الغريق العانی.

آپ شریعت،حقیقت اور ہدایت کے تاج تھے، مخلوق کے قطب اور مصیبت زدوں کے غوث تھے.

(5) احيالنا كتب الامام المرتضى

فھما لفلك الحق کاالشمسان

انہوں نے ہمارے لیے امام مرتضی (امام احمد رضا) کی کتابوں کو جلا بخشی تو آپ دونوں آسمان حق کے دو روشن سورج ہیں.

(6)اسفی علی تلک المحاسن من فتی

قد عاش بالايمان والاحسان

میں ایسی خوبیوں والے کی موت پر نجیدہ ہوں کہ جس نے اپنی زندگی حق و ایمان کے ساتھ گزاری.

(7) قد كان نورا يهتدي بضیائه

و اليوم امسی ثاویا بجنان

آپ ایسے نور تھے کہ جیسے لوگ ہدایت پاتے تھے افسوس کہ آج آپ کا ٹھکانا جنت ہوگیا (ہمیں چھوڑ کر)

(8) فالله يجزيه خير جزائه

وینیله من الروح والريحان.

تو اللہ انہیں بہتر بدلہ عطا فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمائے.

محترم قارئین کرام! آپ نے یہ تاثرات پڑھ کر بخوبی اندازہ لگا لیا ہوگا کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی ذات گرامی کا مقام ومرتبہ کیا ہے کتنے علما نے آپ کو عوام اہلسنت، فقیہ عصر، مفتی اعظم ہند ہمسایہ ممالک، محدث کبیر، علامہ، صوفی، بحرذخار، ولی، امام اجل، قطب، غوث جیسے بھاری بھرکم القابات سے یاد کیا ہے جس سے آپ کی شخصیت کو سمجھا جا سکتا ہے.

جمع و ترتيب و ترجمہ

محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف