أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَخَرَجَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِىۡ زِيۡنَتِهٖ‌ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰلَيۡتَ لَـنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ قَارُوۡنُۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

ایک دن وہ سج دھج کر اپنی قوم میں نکلا ‘ جو لوگ دنیاوی زندگی کے شائق تھے انہوں نے کہا اے کاش ! ہمارے پاس بھی اتنا (مال) ہوتا جتنا قارون کے پاس ہے بیشک وہ بڑے نصیب والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایک دن وہ سج دھج کر اپنی قوم میں نکلا ‘ جو لوگ دنیاوی زندگی کے شائق تھے انہوں نے کہا اے کاش ! ہمارے پاس بھی اتنا (مال) ہوتا جتنا قارون کے پاس ہے بیشک وہ بڑے نصیب والا ہے۔ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا تم پر افسوس ہے ‘ جو شخص ایمان لایا اور اسنے نیک عمل کیے اس کے لیے اللہ کا اجر بہت اچھا ہے اور یہ (نعمت) صرف صبر کرنے والوں کو ملتی ہے۔ (القصص۔ ۸۰۔ ۷۹)

قارون کا اپنے مال و دولت پر اترانا اور اکڑنا 

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اے دن قارون بہت شان و شوکت اور بہت کروفر سے نکلا ‘ اس نے بہت قیمتی لباس پہنا ‘ اور غلاموں اور باندیوں کے جلوس میں بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے اتراتا ہوا اور اکڑتا ہوا باہر آیا ‘ دنیا کے طلب گاروٓں نے جب اس کو دیکھا تو انہوں نے کہا اے کاش ! ہمارے پاس بھی اتنا مال ہوتا ‘ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور اس کی قسمت بہت اچھی ہے 

علماء نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو وہ ان کو سمجھانے لگے کہ تم پر افسوس ہے ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو نیک اور عبادت گزار ہیں ‘ آخرت میں اس سے کہیں اچھی جزا تیار کر رکھی ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھیں ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے ‘ اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا کھٹکا گزرا ہے ‘ اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو : فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین ج۔ (السجدۃ : ٧١) سو کوئی نفس نہیں جانتا کہ ہم نے ان کو آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیزیں چھپا رکھی ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٢٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢٨٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٩١٣)

امام ابن جریر نے کہا جنت کی یہ نعمتیں ان ہی لوگوں کو ملیں گی جو دنیا کی محبت اور دنیا کے عیش و آرام کے نہ ملنے پر صبر کریں گے اور آخرت میں رغبت کریں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 79