أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو زمین میں دھنسا دیا پس اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہوسکا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو زمین میں دھنسا دیا پس اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہوسکا۔ اور کل تک جو لوگ اس کے مقام تک پہنچنے کی تمنا کر رہے تھے وہ کہنے لگے افسوس ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہم بھی زمین میں دھنسا دئیے جاتے ‘ افسوس ہم بھول گئے تھے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ (القصص : ٨٢۔ ٨١)

قارون کو زمین میں دھنسا دینا 

اس سے پہلی آیت میں یہ بتایا تھا کی قارون بڑے نازوانداز اور کروفر اور تبخترکے ساتھ چل رہا تھا اور زمین پر اترا اترا کر اور اکڑاکڑ کر چلنا اللہ تعالیٰ کو سخت نہ پسند ہے اور وہ ایسے لوگوں کو زمین میں دھنسا دیتا ہے ‘ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کی ایک شخص ایک حلہ ( ایک قسم کی دو چادریں) پہنے ہونے جا رہا تھا ‘ جو اس کو اچھا لگ رہا تھا ‘ اور وہ اس پر اتراتا ہوا چل رہا تھا اس نے اپنے سر کے بال لٹکائے ہوئے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اسی طرح زمین میں دھنستا رہے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٨٧٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٨٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٥٠٩‘ دالم الکتب)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پچھلی امتوں میں ایک شخص غرور کے ساتھ اپنا تہبن گھسیٹتا ہواچل رہا تھا کہ اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٩٧٥‘ دارارقم بیروت)

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پچھلی امتوں میں ایک شخص دو سبزچادریں پہنے ہوئے جا رہا تھا اور زمین پر اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے اسے پکڑ لیا اور وہ زمین میں دھنسنے لگا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (مسند احمد ض ٣ ص ٠٤‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥٩٢١١‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ٦١٤١ ھ)

قارون کے ہلاک ہونے اور زمین میں دھنسنے کا ایک سبب تو یہ ہے کہ وہ اپنے مال و دولت اور جاہ حشم پر بہت فخر اور تکبر کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو زمین میں دھنسا دیتا ہے۔

قارون کی حضرت موسیٰ سے دشمنی اور حضرت موسیٰ کی اس کے خلاف دعا کرنے کی وجہ 

اس کا دوسرا سبب مفسرین اور مورخین نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے خلاف دعا کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرٹ موسیٰ نے اس پر زکوٰۃ دینا لازم کردیا تھا اس لیے وہ آپ کا دشمن ہوگیا تھا ‘ ایک وجہ یہ ہے کہ وہ آپ پر حسد کرتا تھا اور کہتا تھا کہ آپ نبی ہیں اور ہارون امام ہیں میرے لیے کوئی منصب نہیں ‘ پھر قارون نے ایک فاحشہ عورت کو رشوت دے کر اس پر تیار کیا کہ جب حضرت موسیٰ بن اسرائیل میں خطبہ دے رہے ہوں تو وہ آپ سے کہے کہ تم وہی ہونا جس نے میرے ساتھ فحش کام کیا تھا ‘ حضرت موسیٰ سن ہر کا نپ اٹھے اسی وقت دو رکعت نماز پڑھی اور اس عورت سے کہا میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے سمندر میں تمہارے لیے خشک راستہ بنایا ‘ جس نے تمہاری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی تم سچا واقعہ بیان کرو ‘ یہ سن کر اس عورت کا رنگ اڑ گیا اور اس نے لوگوں کے سامنے قارون کے رشوت دینے کا واقعہ بیان کردیا ‘ حضرت موسیٰ پھر سجدہ میں گرگئے اور اللہ تعالیٰ سے قارون کی سزا طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے زمین کو آپ کے تابع کردیا ہے ‘ آپ نے زمین سے کہا تو قارون کو اور اس کے محل کو اور اس کے تمام مال و دولت کو نگل لے ‘ سو زمین نے اس کو نگلنا شروع کیا اور وہ زمین میں دھنسنے لگا ‘ اور بالآخر وہ اپنے جاہ وحشم کے ساتھ زمین میں دھنس گیا۔ (تفسیر اھن کثیر ج ٣ ص ٩٣٤ ملخصاََ ‘ دارالفکر بیروت ‘ ٩١٤١ ھ ‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٤٦ ص ١٧‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 81