أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِىۡ‌ؕ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا‌ؕ وَلَا يُسۡـئَلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا یہ مال مجھے اس علم کی وجہ سے دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے ‘ کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اس سے پہلے اللہ کتنی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ طاقت ور اور اس سے زیادہ مال جمع کرنے والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے کہا یہ مال مجھے اس علم کی وجہ سے دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے ‘ کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اس سے پہلے اللہ کتنی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ طاقت ور اور اس سے زیادہ مال جمع کرنے والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ (القصص : ۷۸)

قارون کا اپنے مال کو عطیہ الہیٰ قرار دینے کے بجائے اپنی قابلیت کا ثمرہ سمجھنا 

علماء اور واعظین کی نصیحت کے جواب میں قارون نے کہا ‘ مجھے تمہاری نصیحت کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے یہ مال مجھے اس وجہ سے دیا ہے کہ اس کو معلوم تھا کہ میں اس مال کا مستحق ہوں ‘ بعض علماء نے کہا کہ قارون علم کیمیا جانتا تھا جس سے وہ کیمیاوی طریقہ سے سونا بنا لیتا تھا لیکن یہ علم فی نفسہ باطل ہے کیونکہ کسی چیز کی حقیقت کو بدلنے پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قادر نہیں ہے ‘ ہاں معجزہ اور کرامت کا الگ معاملہ ہے۔

اوریہ فرمایا ہے کہ مجرموں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اس کا محمل یہ ہے کہ ان سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ تم نے کیا کیا گناہ کیے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام کاموں کا علم ہے ‘ البتہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے یہ گناہ کیوں کیے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 78