باب قیام شھر رمضان

ماہ رمضان میں قیام کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی تراویح کا باب اس میں پندرھویں شعبان کی عبادت کا ذکر بھی ہوگا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح پڑھی بھی ہیں اور اس کا حکم بھی دیا ہے مگر تعداد رکعات کے متعلق کوئی یقینی روایت نہ مل سکی،اس لیئے کہا جائے گا کہ اصل تراویح سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور بیس رکعت پڑھنا،ہمیشہ پڑھنا،باجماعت پڑھنا سنتِ صحابہ ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔اور اس باب میں بھی کچھ عرض کیا جائے گا۔ہم نے بیس تراویح پر ایک مستقل رسالہ”لمعات المصابیح”بھی لکھا ہے۔

حدیث نمبر 530

روایت ہے زید ابن ثابت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا حجرہ بنایا ۱؎ اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتی کہ آپ پر لوگ جمع ہوگئے ۲؎ پھر ایک شب لوگوں نے آپ کی آواز نہ پائی سمجھے کہ آپ سو گئے تو بعض لوگ کھنکارنے لگے تاکہ آپ تشریف لے آئیں۳؎ حضور نے ارشاد فرمایا میں نے جو تمہارا کام دیکھا وہ تم پر دائمی رہا ۴؎ حتی کہ میں نے یہ خوف کیا کہ تم پر یہ نماز فرض کردی جائے گی اور اگر تم پر فرض کردی جاتی تو تم قائم نہ کرسکتے ۵؎ اے لوگو اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ مرد کی نماز فرائض کے سوا گھر میں بہتر ہے ۶؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ ماہ رمضان میں بحالت اعتکاف اس طرح کہ اپنے اردگرد مسجد کے ایک گوشہ میں چٹائی کھڑی کرلی تاکہ خلوت میں خاص عبادتیں کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد میں چادر ٹاٹ وغیرہ کا عارضی حجرہ اپنے لیئے بناسکتا ہے مگر اتنا وسیع نہ بنائے کہ نمازیوں پر جگہ تنگ ہوجائے۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎ حق یہ ہے کہ یہ نماز تراویح تھی اور اس طرح ادا ہوتی تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس حجرے کے اندر سے امامت فرماتے اور صحابہ اس حجرے کے باہر آپ کی اقتداء کرتے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ نماز تہجد ہی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تراویح پڑھی ہی نہیں،تراویح سنت صحابہ ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔

۳؎ روش کلام سے معلوم ہورہا ہے کہ گزشتہ راتوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت اورتکبیریں بآواز بلند ادا کیں جس پر صحابہ نے اقتدا کی آج چونکہ آواز نہ تھی لہذا اقتدا نہ کرسکے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیئے جگاتے نہ تھے،بے ادبی سمجھتے تھے اور اکیلےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر پڑھتے بھی نہ تھے کہ اسے محرومی جانتے تھے۔

۴؎ یعنی تمہارا نماز کا شوق اور ہمارے باہرتشریف لانے کی رغبت کا اظہار اور اس کے لیئے کھانسناکھکارنا کافی دیر تک رہا ہم سو نہ رہے تھے سن رہے تھے۔

۵؎ اس فرمان سے چند اہم باتیں معلوم ہوئیں:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اگر آج جماعت سے تراویح پڑھادی گئی تو تراویح بھی پنجوقتی نمازوں کی طرح فرض ہوجائیں گی۔دوسرے یہ کہ آپ کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر تراویح فرض کردی گئی تو میری امت پر بھاری پڑے گی وہ ا س پر پابندی نہ کرسکیں گے۔یہ دونوں چیزیں علوم غیبیہ میں سے ہیں۔تیسرے یہ کہ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اوروں پر شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ ہاں فرمادیں تو شے فرض ہوجائے نہ فرمادیں تو فرض نہ ہو جیسا کہ “کتاب الحج” میں آئے گا کہ اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو حج ہر سال فرض ہوجاتا،ایسے ہی کبھی آپ کے عمل پر بھی شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ اگر آج تراویح پڑھا دیتے تو فرض ہوجاتیں نہ پڑھائیں فرض نہ ہوئیں۔یہ ہے میری سرکار کی سلطنت خداداد۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”سلطنت مصطفی”میں دیکھو۔چوتھے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر رحیم و کریم ہیں اس رحمت کی وجہ سے آج تراویح نہ پڑھائیں۔پانچویں یہ کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے کیونکہ صحابہ نے ہمیشہ پڑھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نہ پڑھنے کا عذر بیان فرمادیا،اس عذر سے ہمیشہ نہ پڑھنا تراویح کو غیر مؤکدہ نہ بنادے گا،ہاں تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔

۶؎ یہاں عام نوافل کا ذکر ہے ورنہ نماز اشراق،نمازسفر،نمازکسوف،نماز استسقاء وغیرہ نوافل مسجد میں افضل ہیں اور اب تراویح بھی مسجد میں افضل کیونکہ اس کی جماعت سے اب کوئی مانع نہیں۔