أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ‌ وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا‌ وَاَحۡسِنۡ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ‌ وَلَا تَبۡغِ الۡـفَسَادَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش کرو ‘ اور دنیا کے حصہ کو (بھی) نہ بھولو اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے ‘ اور ملک میں سرکشی نہ کرو ‘ بیشک اللہ سرکشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

یعنی اس مال کو اللہ کی اطاعت میں اور اس کی راہ میں خرچ کرو ‘ جس سے تم کو دنیا اور آخرت میں چواب ملے گا ‘ اور دنیا سے (بھی) اپنے نصیب کو نہ بھولو ‘ اچھے کھانے پینے ‘ لباس پہننے ‘ مکان اور بیوی سے نکاح کے حصول میں اپنا مال خرچ کرو ‘ حدیث میں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ‘ کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ! انہوں نے کہا کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو ‘ روزہ بھی رکھو ‘ اور روزہ کو ترک بھی کرو اور رات کو قیام بھی کرو اور نیند بھی کیا کرو ‘ کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے ‘ اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے ‘ اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے ( تو ہر حق دار کا حق ادا کرو) ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٩١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٥١١‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٧٢٤٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٩٣٢)

اور جس طرح اپنی مخلوق پر احسان فرماتا ہے تم بھی لوگوں کے ساتھ حسن ِ سلوک کرو ‘ اور تم اپنی توجہ اور ہمت کو سرکشی اور فساد کی طرف مبذول نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سرکشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 77