أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَـنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَقُوۡلُوۡنَ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ‌ۚ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَا‌ ؕ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ۞

 ترجمہ:

اور کل تک جو لوگ اس کے مقام تک پہنچنے کی تمنا کر رہے تھے وہ کہنے لگے افسوس ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہم بھی زمین میں دھنسا دئیے جاتے ‘ افسوس ہم بھول گئے تھے کہ کافر فلاح نہیں پاتے

ویکان کا معنی اور اس کی ترکیب 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠١٣ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں ویکان کا لفظ ہے یہ اصل میں ” ویلک اعلم انہ “ تھا ‘ یعنی تم پر افسوس ہے تم یہ سمجھو کہ پھر اس کو مخفف کر کے ” ویکان “ پڑھا گیا ‘ اور قتادہ نے کہا اسکا معنی الم تر ہے یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا ‘ اور یہ کسی بات کو مقرر کرنے کے لیے آتا ہے۔ اور اس آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ تم پر افسوس ہے تم یہ سمجھو کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے کم کردیتا ہے۔ ( جامع البیان جز ٠٢ ص ٧٤١۔ ٦٤١‘ ملخصاََدارالفکر بیروت ٥١٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

النحاس نے کہا کہ وی ندامت کے اظہار کے لیے ہے ‘ اور الخلیل ‘ سیبویہ اور کسائی نے کہا کہ جب لوگ کسی نکتہ پر متنبہ ہوں یا کسی کو متنبہ کریں تو وی کہتے ہیں اور جو شخص نادم ہو وہ اپنے ندامت کے اظہار کے لیے وی کہتا ہے اور یہ کان پر داخل ہوتا ہے جیسے ویک ان اللہ۔ الفرا نے کہا یہ کلمہ تقریر ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ ا لا کی طرح حرف تنبیہ ہے ‘ بعض نے کہا یہ ویک اعلم انہ کے معنی میں ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ الم ترانہ کے معنی میں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٢٨٢‘ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ح جز ٣١ ص ٢٩٢ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 82