أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ‌ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ۚ كُلُّ شَىۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ‌ؕ لَـهُ الۡحُكۡمُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ۞

 ترجمہ:

اور اللہ کے سوا کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں ‘ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ اس کی ذات کے سواہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ‘ اسی کا حکم ہے ‘ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

اس کے بعد فرمایا : اور اللہ کے سوا کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں ‘ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ اس کی ذات کے سواہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ‘ اسی کا حکم ہے ‘ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (القصص : ٨٨)

اللہ تعالیٰ کے مستحق عبادت ہونے پر دلائل 

یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی طلب اور آپ کے سوال کے بغیر آپ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی ہے اور آپ کو تمام رسولوں سے زیادہ افضل اور مکرم قرار دیا ہے تو آپ فریضہ رسالت بجالائیں اور اس فضل عظیم اور جلیل القدر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ‘ اور جس طرح آپ پہلے بھی اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے تھے اس طرح آئندہ بھی کرتے رہیں اور تا حیات اس کی عبادت پر مستقیم رہیں ‘ آپ سے جو یہ فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں ‘ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ سے یہ اندیشہ تھا کہ آپ کسی اور کی عبادت کریں گے ‘ بلکہ اس میں بھی آپ کی امت کی تعریض ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی اور کی عبادت نہ کریں تو تم اس حکم کے کتنے زیادہ لائق ہو ‘ نیز اس خطاب کا یہ مطلب ہے کہ آپ غیر للہ کی عبادت نہ کرنے کے طریقہ پر دائم اور مستمرر ہیں اور اس آیت میں آپ کی امت کو بھی یہی حکم دینامقصود ہے ‘ اور کفار کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ وہ یہ امید نہ رکھیں کہ زندگی میں کبھی ہمارے نبی تمہاری موافقت کرلیں گے کیونکہ ان کو ان کے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ کیونکہ عبادت کا حق دار وہ ہوگا جس کی ذات واجب الوجود ہو جو ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے ‘ اور اس کے سوا ہر چیزممکن ہے اور ہلاک ہونے والی ہے اور جو چیز ممکن ہو وہ اپنے ہونے میں کسی اور کی طرف محتاج ہوگی اور جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو وہ عبادت کا مستحق کب ہوسکتا ہے ‘ پھر فرمایا : اسی کا حکم ہے ‘ یہ اس کے مستحق عبادت ہونے کی دوسری دلیل ہے ‘ جس کا حکم چلتا ہو اور جو حاکم علی الاطلاق ہو وہی عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے ‘ اور فرمایا : تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘ یہ اس کے مستحق عبادت ہونے کی تیسری دلیل ہے ‘ تم نے زندگی میں جو بھی عمل کیے ہیں آخرت میں تم سے ان کی باز پرس ہوگی اور تمہارا اس کی طرف لوٹایا جانا اسی لیے ہوگا ‘ تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے کس کی عبادت کی ہے اور یہ سوال اور باز پرس بھی وہی کرے گا اسی لیے عبادت کا مستحق بھی وہی ہے سو اسی کی عبادت کرو اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔

اختتامی کلمات اور دعا 

آج بروز جمعرات ٨ ربیع الثانی ٣٢٤١ ھ/٠٢ جون ٢٠٠٢ ء قبل العصر سورة القصص کی تفسیر مکمل ہوگئی ‘ الحمدللہ رب العٰٰلَمین ! اے بارالٰہ ! جس طرح آپ نے قرآن مجید کی یہاں تک تفسیر مکمل کرائی ہے اور تبیان القرآن کی آٹھ جلدیں مکمل کرا دی ہیں ‘ اسی طرح آپ قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کروادیں۔

اس جلد کی ابتدا بروز اتوار ٨٢ جمادی الثانیہ ٢٢٤١ ھ/ ٧١ ستمبر ١٠٠٢ ء کو کی گئی تھی ‘ اس طرح یہ جلد نو ماہ تین دن میں اختتام کو پہنچی۔

میرے تصنیف و تالیف کے کام میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھ دی ہیھ ‘ ورنہ تدریس کی مصروفیات بھی ہیں ‘ ملنے ملانے والے بھی آتے رہتے ہیں اور کمر کے درد کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا ‘ ایک گھنٹہ سے زیادہ ایک نشست میں بیٹھ کر کام نہیں کرسکتا ‘ اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کام کو جاری رکھے ہونے ہے۔ 

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ کہ وہ شرح صحیح مسلم ‘ تبیان القرآن کو تاقیامِ قیامت باقی اور اثر آفریں رکھے ‘ اس کتاب سے مسلمانوں کے ہدایت حاصل ہو ‘ اس کتاب کے پڑھنے سے ان کے دلوں میں خوف خدا اور محبت ِ رسول زیادہ ہو گناہوں سے بچنے کا محرک اور داعیہ پیدا ہو اور نیکیوں میں اضافہ کرنے کا ان کے دلوں میں جذبہ پیدا ہو ‘ ہم سب کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تا حیات صحت اور عافیت کے ساتھ اسلام پر قائم رکھے ‘ اور ایمان پر خاتمہ فرمائے ‘ سکرات موت کو آسان کردے تمام گناہوں کو معاف کر دے دنیا اور آخرت کی تمام مشکلات ‘ مصائب اور ہر قسم کے عذاب سے محفوظ اور مامون رکھے اور دارین کی سعادتیں ‘ کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔

آمین یا رب العالمین !

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید نا محمد خاتم النبیین قائد الغر 

المحجلین شفیع المذنبین و علی آلہ الطاھرین و اصحابہ الکاملین وعلی ازواجہ 

امھات المو منین و علی علماء ملتہ واولیاء امتہ و مسائر امتہ اجمعین۔

غلام رسول سعیدی غفرلہ 

٨ ربیع الثانی ٣٢٤١ ھ/٠٢ جون ٢٠٠٢ ء

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 88