أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ‌ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ‌ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور وہ آپ کو اللہ کی آیتوں ( کی تبلغ) سے نہ روک دیں ‘ اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف نازل کی گئیں ہیں ‘ اور اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلایئے اور آپ شرک کرنے والوں سے ہرگز نہ ہوں

اس آیت کی توجیہ کہ آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں 

اس کے بعد فرمایا : اور وہ آپ کو اللہ کی آیتوں ( کی تبلیغ) سے نہ روک دیں ‘ اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ (القصص : ٧٨)

یہ آیت بھی مذکور الصدر مضمون کی تاکید کے لیے نازل ہوئی ہے کہ خواہ یہ مشرکین اور مخالفین آپ کے خلاف کتنا ہی زور کیوں نہ لگائیں ‘ یہ آپ کو اللہ کی آیتوں کو سنانے سے روکنے نہ پائیں ‘ جو باتین ان کو ناگوار ہیں آپ ان کو بر ملا کہیں جس چیز کو کہنے سے یہ منع کرتے ہیں آپ اس کو علی الاعلان اور برسر مجلس کہیں نیز فرمایا : اور اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلایئے اور آپ شرک کرنے والوں سے ہرگز نہ ہوں۔

اس آیت میں بھی تعریض ہے خطاب آپ کو ہے اور سنایا آپ کی امت کو ہے ‘ کہ آپ کی امت کسی موقع پر بھی شرک کو اختیار نہ کرے اور یہ بتایا ہے کہ اگر کسی نے مشرکین کی رعایت کی تو وہ مشرک ہوجائے گا کیونکہ جو شخص کسی کے دین اور اس کے طریقہ پر راضی ہو اس کا شمار بھی ان ہی میں سے ہوتا ہے۔

ضحاک نے کہا جب مشرکین نے یہ کہا کہ وہ آپ کو مال مہیا کریں گے اور آپ کی شادی کردیں گے بشرطیکہ آپ ان کے دین پر آجائیں تو یہ آ ّیت نازل ہوئی کہ آپ ان کی کسی پیش کش کی طرف رجوع نہ کریں ورنہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تبلیغ سے روک دیں گے۔ اور آپ ثابت قدمی سے کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 87