أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ فَتَـنَّا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ فَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَلَيَعۡلَمَنَّ الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے اس سے پہلے لوگوں کو آزمایا تھا ‘ سو اللہ ان لوگوں کو ضرور ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا جو جھوٹے ہیں

اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک اشکال کے جوابات

سو اللہ ان لوگوں کو ضرور ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو (بھی) ضرور ظاہر کردے گا جو جھوٹے ہیں (العنکبوت : ٣)

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم نیشاپوری متوفی ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے : سو اللہ ان لوگوں کو ضرور جان لے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو (بھی) ضرور جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مستقبل میں ہونے والے کسی کام کا پہلے علم نہیں ہوتا ہے اس کا علم قدیم تام ہے ‘ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا حتیٰ کہ اس کا معلوم ہونا موجود اور متحقق ہوجائے۔

مقاتل نے کہا اس کا معنی ہے اس کو اللہ تعالیٰ دکھا دے گا ‘ الا حفش نے کہا اس کا معنی ہے اللہ اس کو ممتاز اور ممیز کردے گا۔ القنی نے کہا اللہ تعالیٰ کے علم کی دو قسمیں ہیں : (١) ایک قسم یہ ہے کہ وہ ماضی کی کسی بات کو جانتا ہے (٢) اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس کو علم ہے کہ مستقبل میں فلاں کام ہوگا ‘ اور اس کو یہ علم ہے کہ فلاں وقت میں یہ کام ہوگا سو اس کام کے ہوجانے اور وقوع کا علم تو اسی وقت ہوگا جب وہ کام واقع ہوجائے گا ( اور اگر اس کے وقوع سے پہلے یہ علم ہو کہ یہ کام واقع ہوگیا ہے تو یہ غلط اور خلاف واقع ہوگا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے

 ہم ضرور تمہارا امتحان لیں گے حتیٰ کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ظاہر کردیں گے اور ہم تمہاری خبروں کو جانچ لیں گے۔محمد ۳۱ اسی طرح اس آیت میں بھی ہے ( الکشف و البیان ج ٧ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : زجاج نے کہا اس آیت کا معنی یہ ہے تاکہ اللہ صادق کے صدق کے وقوع اور کاذب کے کذب کے وقوع کو جان لے ‘ حالانکہ اللہ کو صادق اور کاذب کے پیدا کرنے سے پہلے ان کے صدق اور کذب کا علم تھا ‘ لیکن اس کو علم تھا کہ صادق کے صدق کا وقوع ہونے والا ہے اور عنقریب اس کا صدق واقع ہوگا لیکن اس نے قصد کیا کہ اس کو ان کے صدق اور کذب کے وقوع کا علم ہوتا کہ ان کے صدق اور کذب کی جزاء دی جائے۔ نحاس نے کہا اس آیت کے حسب ذیل معانی ہیں :

(١) صادقین اور کاذبین کو ان کے اعمال کے اعتبار سے حوصلہ ملے گا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس صلہ اور ان کے انجام سے واقف کرے گا۔

(٢) اللہ تعالیٰ لوگوں کو اور جہان والوں کو اس پر مطلع کرے گا کہ یہ صادق ہیں اور یہ کاذب ہیں ‘ یعنی ان کو مشہور کرے گا ‘ صادقین کی کرامت اور وجاہت ظاہر فرمائے گا کہ یہ صادق ہیں اور کاذبین کو رسوا اور ذلیل کرے گا کہ یہ کاذب ہیں۔

(٣) اللہ تعالیٰ صادقین کے اوپر صدق کی علامت چسپاں کردے گا اور کاذبین پر کذب کی علامت چسپاں کردے گا۔

(الجامع لا حکام القران جز ١٣ ص ٣٠٠۔ ٢٩٩‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ سب سے پہلے سات آدمیوں نے اسلام کو ظاہر کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمار ‘ ان کی ماں سمیہ ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت بلال اور حضرت مقداد (رض) ‘ رہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ کی ‘ اور رہے حضرت ابوبکر تو ان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ کی اور رہے باقی صحابہ تو ان کو مشرکین نے پکڑ لیا اور ان کو لوہے کی زر ہیں پہنائیں اور ان دھوپ میں تپایا ‘ ان میں سے ہر ایک پر خود انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق سختی اور ظلم کیا ‘ ماسوا حضرت بلال کے ‘ ان کے نزدیک ان کی جان معمولی اور حقیر تھی ‘ اور ان کی قوم بھی ان کو حقیر جانتی تھی، انہوں نے ان کو پکڑ کر بچوں کے حوالے کردیا وہ حضرت بلال کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے اور حضرت بلال کہتے تھے احد احد ( اللہ واحد ہے ‘ اللہ واحد ہے) ۔(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٠‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٢ ص ١٤٩‘ مسند احمد ج ١ ص ٤٠٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٨٣‘ المستد رک ج ٣ ص ٢٨٤‘ دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٢٨٢۔ ٢٨١)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 3