أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰٓى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ‌ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ (کسی چیز سے) یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی ماسوا آپ کے رب کی رحمت کے سو آپ کافروں کے ہرگز مددگار نہ بنیں

بعثت سے پہلے آپ کو نبی بنائے جانے کا علم تھا یا نہیں۔

اس کے بعد فرمایا اور آپ ( کسی چیز سے) یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی ماسوا اپنے رب کی رحمت کے۔ اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے اکثر مفسرین نے الارحمۃ من ربک کو استشناء منقطع قرار دیا ہے اور بعض نے اس کو استثناء متصل قرار دیا ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠١٣ ھ لکھتے ہیں :

اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر یہ قرآن نازل کیا جائے گا ‘ اور آپ کو گزشتہ قوموں کی خبریں اور گزشتہ حوادث معلوم ہوجائیں گے جن لوگوں اور واقعات کے سامنے آپ حاضر نہ تھے آپ نے ان کو اپنی قوم پر تلاوت کیا ‘ مگر یہ کہ آپ کے رب نے 

آپ پر رحم فرمایا اور آپ پر یہ خبریں نازل کیں۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ (جامع البیان جز ٠٢ ص ٤٥١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

اس استثناء کا متصل ہونا بھی جائز ہے یعنی آپ پر صرف آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے یہ کتاب نازل کی گئی ہے اور کسی وجہ سے یہ کتاب نازل نہیں کی گئی یا آپ پر رحمت کے سوا اور کسی حال میں یہ کتاب نازل نہیں کی گئی۔ (روح المعانی جز ٠٢ س ٢٩١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

امام ٖفخر الدین رازی  متوفی ھ نے اس آیت کا اس طرح معنی کیا ہے : آپ یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحمت سے آپ پر رحم فرائے گا اور آپ پر رحم فرمائے گا اور آپ پر یہ انعام فرمائے گا۔ ( تفسیر کبیر ج ٩ ص ٠٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

مفتی احمد یار خان متوفی ١٣٩١ ھ (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی ظاہر اسباب کے لحاظ سے آپ کو نبوت کی امید نہ تھی ‘ صرف خدا کی رحمت سے ‘ امید تو کیا ‘ تقین تھا ‘ کیونکہ آپ کو نبوت نہ تو حضرت ہارون کی طرح کسی کی دعا سے حاصل ہوئی ‘ نہ حضرت یحییٰ و سلیمان (علیہما السلام) کی طرح بطور میراث ملی بلکہ صرف اللہ کی رحمت سے ملی لہٰذا اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ اپنی نبوت سے بیخبر تھے ‘ آپ کو تو بچپن ہی سے شجر و حجر سلام کرتے تھے اور رسول اللہ کہہ کر پکارتے تھے ‘ بحیرہ راہب نے بچپن میں ہی آپ کی نبوت کی خبر دے دی تھی ‘ خود فرماتے ہیں : کنت نبیا و آدم لمنجدل فی طینتہ۔ (میں اس وقت بھی نبی تھا اور آدم ہنوز اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے) ۔ (حاشیہ نور العرفان ١٣٦‘ مطبوعہ ادارہ کتب اسلامیہ گجرات)

یہ کہنا تو صحیح نہیں ہے کہ آپ کو کسی کی دعا سے نبوت ملی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کے لیے نبوت کی دعا کی ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

ربنا وا بعث فیھم رسولا منھم۔ (البقرہ : ٩٢١) اے ہمارے رب ان ( اہل مکہ) میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیج دے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠٣١ ھ لکھتے ہیں :

یہ دعا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے خصوصیت سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کی ہے اور یہ وہی دعا ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں اور عیسیٰ کی بشارت ہوں۔ (جامع البیان جز اص ٣٧٧‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ١ ص ١٣١‘ رقم الحدیث : ٧٠٢‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٦٢٦٣‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٣٣٨١٣)

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت ( اعلان نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٧٢٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٢٦٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٦٤‘ مسند احمد ج ٥ ص ٩٨‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٠٢‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٩٦٤٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٨٦٤‘ المعجم الکبیررقم الحدیث : ٧٠٩١‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٣٠٢‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ٠٠٣‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٣٥١‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٩٠٧٣)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کے بعض راستوں میں جا رہا تھا ‘ آپ کے سامنے جو پہاڑ یا پتھر آتا تو وہ کہتا تھا السلام علیکم یا رسول اللہ۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٢٦٣‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٢‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٣٥١۔ ٢٥١‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٠١٧٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ پر نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : جس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٠٦٣‘ المستدرک ج ٢ ص ٩٠٦‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٠٣١)

ان تمام احادیث میں اس پر قومی دلیل ہے کہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنائے جانے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا۔ سید ابو الا علیٰ مودودی متوفی ٩٩٣١ ھ نے شدت سے اس کا انکار کیا ہے کہ آپ کو نبی بنائے جانے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا۔ وہ لکھتے ہیں :

یہ بات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جا رہی ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) بالکل بیخبر تھے کہ انہیں نبی بنایاجانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں ‘ ان کے حاشیہ خیال میں بھی اس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غار حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اس سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی ‘ آپ کے مشاغل کیا تھے ‘ آپکی بات چیت کیا تھی ‘ آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا تھے ‘ آپ کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں کس نوعیت کی تھیں ‘ یہ پوری زندگی صداقت ‘ دیانت ‘ امانت اور پاکبازی سے لبریز ضرور تھی۔ اس میں انتہائی شرافت ‘ امن پسندی ‘ پاس عہد ‘ ادائے حقوق اور خدمت خلق کا رنگ بھیء غیر معمولی شان کے ساتھ نمایاں تھا۔ مگر اس میں کوئی چیز ایسی موجود نہ تھی جس کی بنا پر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ خیال گزر سکتا ہو کی یہ نیک بندہ کل نبوت کا دعوی لے کر اٹھے والا ہے۔ آپ سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں ‘ آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ کسی نے ان مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق کبھی ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غار حراء کی اس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہوگئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرتے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے۔ کبھی آپ وعظ کہنے کھڑے نہ ہوئے تھے۔ الخ ( تفہیم القرآن ج ٣ ص ٧٦٦‘ لاہور ‘ ٣٨٩١)

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کو بہت طویل عبارت میں لکھا ہے۔ یہی عبارت انہوں نے سیرت سرورعالم ج ٢ ص ٩٠١۔ ٨٠١‘ ج ٢ ص ٨٣١۔ ٦٣١ میں بھی لکھی ہے ‘ ہم نے النمل : ٩ میں اس مکمل عبارت کو نقل کیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے ‘ جو قارئین اس عنوان کے تمام پہلوؤں کو تفصیل سے جاننا چاہتے ہوں کہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعثت سے پہلے اپنے نبی ہونیکا علم تھا یا نہیں ‘ ان کوا لنمل : ٩ تفسیر ضرور پڑھنی چاہیے۔ تاہم اس آیت سے یہ بہر حال معلوم ہوجاتا ہے کہ نبی کو یہ منصب بغیر کسی طلب و تمنا اور بغیر کسی انتظار و توقع کے ملتا ہے خواہ اس کو پہلے سے علم ہو کہ اس کو نبی بنایا جائے گا اور مقام بعثت پر فائز کیا جائے گا۔ 

مشرکین کے مددگار بننے کی ممانعت کا محمل 

اس کے بعد فرمایا : سو آپ کافروں کے ہرگز مددگار نہ بنیں ‘ اس آیت میں بظاہر آپ کو خطاب ہے لیکن اس خطاب کا رخ دراصل مکذبین قرآن کی طرف ہے ‘ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے آپ کی طرف جو پیغام نازل کیا اس کو بےکم وکاست لوگوں تک پہنچادیجیے ‘ اگر یہ مشرکین آپ پر دباؤ اور زور ڈال کر اس میں کچھ کمی یا ترمیم کرنا چاہیں تو آپ ان کے کہنے میں نہ آئیں ‘ آپ اس پیغام میں کسی قسم کی نرمی یا تبدیلی کرنے کے مجاز نہیں ہیں ‘ اور کسی کی خاطر پیغام میں کچھ تبدیلی کرنا مدا ہنت ہے ‘ اگر بہ فرض محال آپ نے اللہ کے پیغام میں کوئی نرمی یا تبدیلی کردی تو یہ مداہنت ہوگی اور آپ مجرموں کے پشت پناہ اور مدد گا ربن جائیں گے ‘ اور اس آیت کو نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے سرداروں کو یہ بتایا ہے کہ اگر وہ دل کے کسی گوشہ میں یہ امید اور یہ توقع رکھے ہوئے ہوں کہ وہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام اور توحید کے پیغام میں کچھ رودوبدل یا کمی بیشی کرالیں گے تو وہ مایوس ہوجائیں ‘ اللہ کے نبی اس معاملہ میں ان کی کسی قسم کی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔ اس آیت کا یہ محمل بھی وہ سکتا ہے کہ اس آیت میں تعریض ہے بظاہر مشرکین کی مدد نہ کرنے کا خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے ‘ یعنی آپ کی امت جب دنیا میں تبلیغ کے لیے اٹھے تو مشرکین کے دباؤ سے اللہ کے پیغام سنانے میں کوئی نرمی نہ کرے ‘ اور نہ کسی قسم کی تحریص اور ترغیب سے متاثر ہو کر مداہنت کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 86