وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۶۱)

اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا (ف۱۲۴) تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا (ف۱۲۵) لیکن انہیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے (ف۱۲۶) پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں

(ف124)

یعنی معاصی پر پکڑتا اور عذاب میں جلدی فرماتا ۔

(ف125)

سب کو ہلاک کر دیتا ۔ زمین پر چلنے والے سے یا کافر مراد ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے ” اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اﷲِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا”یا یہ معنی ہیں کہ روئے زمین پر کسی چلنے والے کو باقی نہیں چھوڑتا جیسا کہ نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو کوئی زمین پر تھا ان سب کو ہلاک کر دیا صرف وہی باقی رہے جو زمین پر نہ تھے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ساتھ کشتی میں تھے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ معنی یہ ہیں کہ ظالموں کو ہلاک کر دیتا اور ان کی نسلیں منقطع ہو جاتیں پھر زمین میں کوئی باقی نہ رہتا ۔

(ف126)

اپنے فضل و کرم اور حلم سے ٹھہرائے وعدے سے یا اختتامِ عمر مراد ہے یا قیامت ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰىؕ-لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ(۶۲)

اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے (ف۱۲۷) اور ان کی زبانیں جھوٹوں کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (ف۱۲۸) تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں (ف۱۲۹)

(ف127)

یعنی بیٹیاں اور شریک ۔

(ف128)

یعنی جنّت ۔ کُفّار باوجود اپنے کُفر و بہتان کے اور خدا کے لئے بیٹیاں بتانے کے بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہوں اور خَلقت مرنے کے بعد پھر اٹھائی جائے تو جنّت ہمیں کو ملے گی کیونکہ ہم حق پر ہیں ۔ ان کے حق میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

(ف129)

جہنّم ہی میں چھوڑ دیئے جائیں گے ۔

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجےتو شیطان نے ان کے کوتک(برے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے (ف۱۳۰) توآج وہی ان کا رفیق ہے (ف۱۳۱) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے(ف۱۳۲)

(ف130)

اور انہوں نے اپنی بدیوں کو نیکیاں سمجھا ۔

(ف131)

دنیا میں اسی کے کہے پر چلتے ہیں اور جو شیطان کو اپنا رفیق اور مختار کار بنائے وہ ضرور ذلیل و خوار ہو یا یہ معنی ہیں کہ روزِ آخرت شیطان کے سوا انہیں کوئی رفیق نہ ملے گا اور شیطان خود ہی گرفتارِ عذاب ہوگا ، ان کی کیا مدد کر سکے گا ۔

(ف132)

آخرت میں ۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِۙ-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۶۴)

اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری (ف۱۳۳) مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں (ف۱۳۴) اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے

(ف133)

یعنی قرآن شریف ۔

(ف134)

امورِ دین سے ۔

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠(۶۵)

اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو (ف۱۳۵) زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے (ف۱۳۶) بےشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں (ف۱۳۷)

(ف135)

روئیدگی سے سرسبزی و شادابی بخش کر ۔

(ف136)

یعنی خشک اور بے سبزہ و بے گیاہ ہونے کے بعد ۔

(ف137)

اور سن کر سمجھتے اور غور کرتے ہیں ، وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو قادرِ برحق زمین کو اس کی موت یعنی قوتِ نامیہ فنا ہو جانے کے بعد پھر زندگی دیتا ہے ، وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد بے شک زندہ کرنے پر قادر ہے ۔