أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ اَنۡ يَّسۡبِقُوۡنَا‌ ؕ سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جو لوگ برے کام کرتے رہتے ہیں کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے ! وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ برے کام کرتے رہتے ہیں کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے ! وہ کیسا بُرا فیصلہ کرتے ہیں اور جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے ‘ اور وہ بہت سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے اور جو ( اس کے دین میں) کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کوشش کرتا ہے ‘ بیشک اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دیں گے اور ہم ان کے اچھے کاموں کی ضرور ان کو جزا دیں گے (العنکبوت : ٧۔ ٤) اللہ تعالیٰ کا غنی اور بےنیاز ہونا 

جو لوگ برے کام کرتے رہے ہیں ‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک کرتے رہے ہیں ‘ کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے ‘ اس سے یہ مراد ہے کہ کیا ان کا یہ گمان ہے کہ وہ ہم کو عاجز کردیں گے اور ہم ان کی گرفت نہیں کرسکیں گے ‘

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت الولید بن المغیرہ ‘ ابوجہل ‘ الاسود ‘ العاص بن ہشام ‘ شیبہ ‘ عتبہ ‘ الولید بن عتبہ ‘ عقبہ بن معیط ‘ حنظلۃ بن ابی سفیان اور العاص بن وائل وغیرہ ہم کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے اپنے رب کی صفات کے متعلق جو یہ کہا ہے کہ وہ اپنیرب کی گرفت میں نہیں آسکیں گے ‘ ان کا یہ کہنا بہت برا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 4