أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَرَوۡا كَيۡفَ يُبۡدِئُ اللّٰهُ الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ‏ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا ‘ بیشک یہ اللہ پر آسان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ‘ پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا بیشک یہ اللہ پر آسان ہے آپ کہیے کہ تم زمین میں سفر کرو پس غور کرو کہ کس طرح اللہ نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ہے ‘ پھر اللہ دوسری بار نئی پیدائش کرے گا ‘ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے اور تم (اللہ کو) زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو اور نہ آسمان میں ‘ اور اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے نہ کوئی دوست ہے اور نہ مددگار (العنکبوت : ٢٢۔ ٩ ١)

حشر کا ثبوت اور عذاب اور ثواب کا بیان :۔

انما تعبدون من دون اللہ (العنکبوت : ۱۷)اسے الوہیت کو ثابت فرمایا اور وما علی الرسول الالبلاغ (العنبکوت : ۱۸) اسے رسالت کو ثابت فرمایا اور اب اولم یروا کیف یبدیء اللہ الخلق (العنکبوت : ١٩) سے حشر و نشر اور آخرت کو ثابت فرما رہا ہے۔

اس آیت میں فرمایا : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ‘ اس پر اعتراض ہے کہ لوگوں نے کب دیکھا ہے اور کب مشاہدہ کیا ہے کس طرح اللہ نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کو بداہتہ معلوم ہے کہ اس مخلوق کو ابتداء کسی مخلوق نے پیدا نہیں کیا کیونکہ مخلوق تو خود اپنے وجود اور ظہور میں کسی خالق کی محتاج ہے ‘ اور ضروری ہے کہ اس کا خالق واجب اور قدیم ہو اور وہی اللہ ہے اور یہ اتنا جلی اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مشاہدہ اور دیکھنے سے تعبیر فرمایا ‘ اور جب لوگ بداہۃ یہ جانتے ہیں کہ ابتداء اس مخلوق کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ‘ تو پھر دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیوں مستبعد جانتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اس کا کائنات کو ابتدائً پیدا کیا تو وہ اس کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کو رہ نمائی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے آفاق میں جو نشانیاں پیدا کی ہیں ان پر غور کرو ‘ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا ان میں ساکن اور متحرک ستارے بنائے اور زمینوں کو پیدا کیا ان میں پہاڑوں ‘ وادیوں درائوں اور سمندروں کو پیدا کیا ‘ درختوں کو پیدا کیا ‘ کھیتوں اور باغات کو پیدا کیا اور یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان کا خالق ان کو عدم سے وجود میں لایا ہے اور اس نے ان چیزوں کو پیدا کرنے کے لئے صرف لفظ کن فرمایا تو جو ایک لفظ ” کن “ سے اتنی عظیم کائنات پیدا کرسکتا ہے تو کیا وہ اسی لفظ ” کن “ سے ایسی ہی کائنات دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔

اور فرمایا وہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے۔ یعنی وہ حاکم مطلق ہے وہ جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے سب اس کے بندے اور مملوک ہیں اس کے فیصلہ اور تصرف پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے وہ جس کو چاہیے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے۔

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اللہ تمام آسمان والوں اور تمام زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ان کو ضرور عذاب دے گا اور یہ اس کا ظلم نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٨٢)

اس آیت میں عذاب دینے کے ذکر کو رحم فرمانے کے ذکر پر مقدم کیا ہے حالانکہ حدیث میں ہے :۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت کرتی ہے۔ (مسند الحمیدی رقم الحدیث : ١١٢٦‘ مطبوعہ المکتبہ السلفیہ المدینہ المنورۃ)

چونکہ ان آیات میں کفار سے خطاب ہو رہا ہے اس لئے اس مقام پر عذاب کا ذکر رحمت کے ذکر پر مقدم فرمایا اور اس سے بھی کہ گناہ کرنے والے مسلمان اللہ کے عذاب کے ڈر سے گنا ہوں سے باز آجائیں اور اس کی رحمت کی امید پر نیک کام کریں۔ یہاں پر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ گناہوں پر عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اور نیکیوں پر ثواب دینا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 19