حدیث نمبر 539

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی بکر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی کو فرماتے سنا کہ ہم رمضان میں نماز سے فارغ ہوتے تھے تو خدام سے جلد کھانا مانگتے تھے سحری جاتے رہنے کے خوف سے۔دوسری روایت میں ہے فجر کے خوف سے ۲؎(مالک)

شرح

۱؎ آپ عبداﷲ ابن ابی بکر ابن محمد ابن عمر ابن حزم انصاری مدنی ہیں،آپ علمائے مدینہ میں سے تھے،ستر سال کی عمر ہوئی، ۳۵ھ؁میں وفات پائی۔(مرقاۃ،اکمال)انہیں حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں صدیق اکبر کا بڑا فرزند عطا فرمایا،خطا ہوگئی کہ وہ تو جنگ طائف میں شہید ہوگئے۔

۲؎ یعنی اول شب سے تراویح شروع کرتے تو سحری تک پڑھتے ہی رہتے۔سو کر پھر اٹھ کر نہیں پڑھتے تھے،اب شبینہ میں یہی ہوتاہے۔