حکایت نمبر348: شیخین کریمین کے گستاخ کا عبرتناک انجام

حضرتِ سیِّدُنا ابو محمدخُرَاسَانِی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِی کا بیان ہے کہ” ایک خُرَاسَانی تاجر کا غلام بہت نیک وپارسا تھا۔ موسِمِ حج میں جب حاجیوں کے قافلے سوئے حرمین جانے لگے تو اس نیک غلام کے دل میں بھی حاضری کی خواہش جوش مارنے لگی ۔ اس نے مالک کے پاس جاکر حالِ دل سنایا اور حاضری کی اجازت طلب کی۔ بد بخت وگستاخ تاجر نے انکار کردیا۔ غلام نے کہا: ”میں اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی فرمانبرداری کی اجازت مانگ رہا ہوں، تم اجازت کیوں نہیں دیتے۔” تاجر نے کہا: ”اگر تم میرا ایک کام کرو تو میں اجازت دے دوں گا ورنہ ہر گز اجازت نہ دوں گا ،پکاوعدہ کرو کہ تم وہ کام کروگے۔” غلام نے کہا: ”بتاؤ! کیا کام ہے ؟ ” بدبخت تاجر بولا:”میں تمہارے ساتھ بہترین سواریاں ،خدام ، اچھے رفقاء اور دیگر بہت سی اشیاء بھیجوں گا۔ جب روضۂ رسول عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر جاؤ تو وہاں جاکر یہ کہنا :”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے آقا نے یہ پیغام بھجوایا ہے کہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں دوستوں ابوبَکْر صدیق و عمرِ فاروق(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیزار ہوں۔ ” اگرمیرا یہ پیغام پہنچانے کی حامی بھر لو تومَیں تمہیں بخوشی اجازت دیتاہوں ۔غلام کا بیان ہے کہ اپنے بدبخت مالک کی یہ گستاخانہ باتیں سن کر میرا دل بہت جَلا، میں بہت غمگین ہو گیا۔ بظاہر تو میں نے کہہ دیا کہ میں فرمانبردار وطاعت گزار ہوں لیکن جو میر ے دل میں تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بہتر جانتاہے ۔ بہر حال میں قافلے کے ہمراہ مدینۂ منورہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچا، دھڑکتے دل ،لزرتے قدموں ، پرنم آنکھوں کے ساتھ روضۂ رسول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جانب بڑھنے لگا:

؎ ہوئیں اُمیدیں بار آور مدینہ آنے والا ہے جھکا لو اب ادب سے سر مدینہ آنے والا ہے

قبرِ انورپر پہنچ کر جانِ عالم، سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔ پھرامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورامیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔ مجھے اپنے بد بخت وگستاخ مالک کا قبیح الفاظ پر مشتمل پیغامِ بد، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں پہنچانے سے بہت شرم آرہی تھی لہٰذا میں باز رہا۔ اور مسجد ِنبوی میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین میں سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ قبرِ انور کی دیوار شق ہوئی اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نور بار چہرہ چمکاتے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سبز لباس زیبِ تن کیا ہواتھا اور جسمِ اطہر سے مشک کی خوشبو آرہی تھی۔ سارا ماحول مشکبار ہو گیا۔ مسجد نبوی کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا تھا کہ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لاچکے ہیں۔

؎ عنبر زمیں، عبیر ہوا، مشک تر غبار ادنیٰ سی یہ شناخت تری راہ گزر کی ہے

حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دائیں جانب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر اور بائیں جانب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اتباع میں انہوں نے بھی سبز لباس پہنا ہوا تھا۔ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری طر ف متوجہ ہوکرارشاد فرمایا: ”اے عقل مند شخص !تو نے اپنے مالک کا پیغام ہم تک کیوں نہیں پہنچایا ؟” حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ہیبت اوررُعب ودبدبہ اتنا تھا کہ میں نے سر جھکائے دست بستہ عرض کی:” میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے شرم آتی تھی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آپ کے پہلو میں آرام فرما دوستوں کے متعلق اپنے بد بخت مالک کا گستاخانہ پیغام سناؤں۔”
سرکار عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ”اے خوش بخت! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو حج کرنے کے بعد بخیر وعافیت ” خُرَاسَان ” واپس جائے گا۔ جب تو اپنے مالک کے پاس پہنچے تو کہنا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اُس سے بیزار ہیں جو صدیق وفاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )سے بیزار ہے ۔” کیا تو سمجھ گیا ہے ؟” میں نے کہا : ” جی ہاں، میرے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میں سمجھ گیا۔” پھر فرمایا:” جان لے! جب تو وہاں پہنچے گا تو چوتھے دن وہ مرجائے گا، کیا تو سمجھ گیا؟” میں نے عرض کی:” جی ہاں، میرے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میں سمجھ گیا ۔” فرمایا: ”توجہ سے سن! مرنے سے پہلے اس کے منہ سے پیپ وخون نکلے گا،کیا تو سمجھ گیا ؟” میں نے عرض کی :”میرے آقا! میں خوب سمجھ گیا۔”
پھر آقائے نامدار، ہم غریبوں کے مالک ومختار، باذن پرورد گار غیبو ں پر خبردار، مکی مدنی سر کار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم واپس تشریف لے گئے اورمیں بیدار ہوگیا۔ حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدنا صدیقِ اکبروفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زیارت ہونے پر میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوب شکر ادا کیا۔ پھر میں نے حج کیا اور مخبرِ صادق صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرمان کے مطابق اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بخیر و عافیت واپس ” خُرَاسَان ” آگیا۔ میں اپنے ساتھ بہت سے موسمی پھل وغیرہ بھی لایا۔میرے بدبخت مالک نے دو دن تک مجھ سے کوئی بات نہ کی، تیسرے دن پوچھنے لگا: ” میرا پیغام پہنچا یا یا نہیں ؟” میں نے کہا:” میں نے تمہارا کام پورا کردیا۔”کہا:”وہاں سے کیاجواب ملا؟” میں نے کہا:”اگروہاں سے ملاہواپیغام نہ سنو تو تمہارے لئے بہتر ہے ۔ ” کہنے لگا : ” نہیں ، مجھے بتاؤ!تمہارے ساتھ کیاواقعہ پیش آیا؟”میں نے واقعہ سناناشروع کیا۔ جب میں نے یہ بتایاکہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:”اپنے مالک سے کہہ دینا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے بیزار ہیں جو میرے دونوں دوستوں صدیق وفاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیزار ہے۔ ” میرا یہ قول سن کر وہ بد بخت ونامراد قہقہے مار کر ہنسنے لگا۔ پھر اس طر ح بکواس کی:”ہم ان سے بیزار ہیں اوروہ ہم سے بیزار ہوگئے ، اب ہم سکون سے رہیں گے۔” اس بدبخت کی یہ بات سن کر میں نے دل میں کہا:” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن! جلد ہی تو اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ۔” حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرمانِ عبرت نشان کے عین مطابق چوتھے دن اس بد بخت کے چہرے پر گندے پھوڑے نکل آئے اوراس کے منہ سے پیپ اور خون بہنے لگا۔بالآخر ظہر کی نماز سے قبل وہ گستا خ و نامراد بڑی ذلت آمیز اور عبرتناک موت مر گیا۔
؎ نہ اُٹھ سکے گا قیامت تَلَک خدا کی قسم! جسے مصطفی(ا)نے نظر سے گرا کر چھوڑ دیا
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ،بے اَدبوں اور گستاخوں سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ ہم سے کبھی کوئی ادنیٰ سی گستاخی بھی سر زد نہ ہو۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! گستاخوں کا انجام بڑا دردناک وعبرتناک ہوتا ہے۔ ایسے نامراد ،زمانے بھر کے لئے عبرت کا سامان بن جاتے ہیں۔ جو نامرادو بد بخت اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شان میں ناز یبا کلمات بکتا یا صحابۂ کرام اوراولیاءِ عُظام رحمہم اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کرتا ہے آخرت میں تو تباہی و بر بادی اس کا مقدر ضرورہوگی لیکن وہ دنیا میں بھی ذلیل ورُسوا ہو کر زمانے بھر کے لئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے اور عقلمند لوگ کبھی بھی اس کے عقائد و اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ اللہ ربُّ العزَّت ہمیں ہمیشہ با ادب لوگو ں کی صحبت میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بڑوں کاادب اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
ہم اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت کرتے ہیں۔ ہمیں تمام انبیاء کرام ، صحابۂ کرام اور اولیاءِ عُظام علیہم الصلٰوۃ والسلام سے سچی محبت ہے۔ ہمیں یقینِ کا مل ہے کہ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی محبت کے صدقے ہماری مغفرت ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہر گھڑی بے ادبوں سے محفوظ رکھے ، امیرِ اہلسنت حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں استغاثہ کرتے ہیں:
؎ محفوظ سدا رکھنا شہا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم!بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادبی ہو !
(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)